مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 287
مجموعہ اشتہارات ۲۸۷ جلد دوم پھر میں کہتا ہوں کہ اگر آریہ قوم در حقیقت گنگا بشن کو اپنی قسم میں سچا سمجھتی ہے تو اس رقم کا جمع کرانا اُن کے لئے کیا مشکل ہے۔لیکن اگر جھوٹا مجھتی ہے۔تو پھر ایسے جھوٹے کو مقابلہ کی عزت دینا مصلحت سے بعید ہے اور نیز گورنمنٹ بھی ہمارے کاموں کو دیکھتی ہے کہ کیا ہم ادنی ادنی آدمی کے مقابلہ پر سبک مزاجی کے طور پر لڑنے کو طیار ہو جاتے ہیں یا ایسے شخصوں کے ساتھ جو اُن کا مقابلہ قوم کے مقابلہ کے حکم میں ہوتا ہے اور ابتداء انہیں سے ہوتی ہے۔اور پھر یہ بھی بات ہے کہ آریہ صاحبوں کو دس ہزار و پیہ جمع کرانے میں کچھ دقت بھی نہیں۔ہم تو صرف فتح کے نشان کے لئے گنگا بشن کی لاش کے خواستگار ہیں۔اور دس ہزار روپیہ تو صرف اس صورت میں تاوان کی طرح لیا جائے گا کہ جب لاش دینے سے انکار کریں۔کیا خوب ہو کہ آریہ لوگ اس اپنے وفا دار جان نثار گنگا بشن کو اس ناچیز امداد سے محروم نہ رکھیں۔کیا جان دینے سے کوئی اور نشان آریہ ہونے کا ہوگا۔روز کے جھگڑوں کے طے ہونے کے لئے یہ نہایت عمدہ تقریب پیدا ہوئی ہے۔اگر آریہ صاحبوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے دیا تو پھر آئیندہ ان کو حق نہیں ہوگا کہ اخباروں میں میری نسبت شائع کریں کہ یہی شخص لیکھرام کا قاتل ہے۔بقیہ حاشیہ۔قدر کرتی ہے زندہ کا کوئی قدر نہیں کرتا۔آپ لوگوں کو مناسب ہے کہ بلا توقف دس ہزار روپیہ گنگا بشن کی لاش کی ضمانت کے لئے جمع کرا دیں اور با ضابطہ سر کاری سند ہم کو دلا دیں۔گنگا بشن نے آپ لوگوں کے لئے تمام کاروبار اپنے برباد کر دیئے۔اب صرف ایک جان باقی ہے وہ بھی آریہ دھرم پر قربان کرنے کے لئے ہتھیلی پر رکھے کھڑا ہے۔اگر ایسے مہاتما کا قدر نہ کر تو پھر آپ لوگوں میں مردم شناسی کا مادہ ہی نہیں۔اور نیز اب اگر آپ نے اس قوم کے بہادر کی مدد نہ کی اور اس کا ساتھ نہ دیا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کا سبب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آپ لوگوں کے دلوں میں کامل یقین کے ساتھ یہ بات جم گئی ہے کہ لیکھر ام صرف پیشگوئی کے اثر سے خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچا ہے اور وہی تجربہ آپ کو گنگا بشن کی مدد دینے سے روکتا ہے ورنہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فدائی قوم کی کیوں ہمدردی نہیں کی جاتی جس نے آریہ مذہب کے لئے اپنی معاش کو بھی تباہ کر لیا اور اپنی جان دینے کو بھی طیار ہے۔منہ