مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 286

مجموعہ اشتہارات ۲۸۶ جلد دوم جس کا دل پاک ہو اور کسی نجاست سے آلودہ نہ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی یہ عادت ہے کہ توہین کرنے والے کی تو ہین اسی پر ڈال دیتا ہے۔دیکھو جب محمد حسین بٹالوی نے میری نسبت یہ کہنا شروع کیا کہ یہ جاہل ہے عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتا تو خدا تعالیٰ نے کیسی اس کی جہالت ثابت کی۔ہزاروں روپے کے انعام کی عربی کتابیں شائع کی گئیں۔وہ بول نہ سکا گویا زندہ ہی مر گیا۔ایسا ہی جب گنگا بشن نے لاش مانگی اور لکھا کہ میں جو کام چاہوں گا اس لاش سے کرونگا خدا کو یہ پسند نہ آیا اس لئے میں نے نہ اپنے نفس سے بلکہ الہی جوش سے اس کی لاش کو مانگا۔اس بات کو یاد کر رکھو کہ اگر وہ میدان میں آیا تو یہ سب کام اس کی لاش سے ہوں گے جو میری لاش کی نسبت اسنے بیان کئے تھے۔یہی تو وہ بات ہے کہ مَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ۔پس ان لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جو خدا کے کاروبار پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کے دل جلد سیاہ ہونے کو طیار ہو جاتے ہیں۔یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پیشگوئی کا اثر پڑنے کے لئے کسی قدر قوم کا دخل ضروری ہے۔پس اگر آریہ قوم کے گنگا بشن کو ایسا ہی ذلیل جانتی ہے کہ باوجود یکہ وہ اُن کے لئے جان دینے کو طیار ہے۔مگر وہ قوم اس کو اس قدر عزت بھی نہیں دے سکتی کہ دس ہزار روپیہ اس کے لئے جمع کرا دیں۔تو کیا ایسا ذلیل مقابلہ کے لائق ہے۔ال عمران : ۵۵ ے نوٹ۔اے آریہ صاحبان آپ لوگ متوجہ ہو کر سنیں کہ گنگا بشن بہت عزت دینے کے لائق ہے اس نے آپ کے لئے اپنی نوکری کو جس پر تمام ذریعہ معاش کا تھا۔ہاتھ سے دیا۔اس نے آپ کے لئے فقر وفاقہ کو منظور کیا۔اس نے آپ کے لئے اس بات کی بھی پروانہ رکھی کہ علانیہ ایک شخص کو قاتل لیکھرام ٹھیرا کر قانونی مواخذہ کے نیچے آ جائیگا۔پھر سب سے زیادہ بات یہ ہے کہ اس نے آریہ مت کو عزت دینے کے لئے بالا رادہ اپنی جان قربان کرنا پسند کیا اور پھر یہ کہ اپنی لاش کی ذات کو بھی منظور کیا۔کیا ابھی آپ لوگوں کا دل اس کے لئے نرم نہیں ہوا۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ دس ہزار روپیہ اس کے سر پر سے قربان کر دیں۔آپ انصافا کہیں کہ یہ خوبیاں اور جانفشانیاں اور آریہ دھرم کے لیے یہ قدم صدق جو گنگا بشن نے دکھایا لیکھرام میں کہاں تھا۔سچ تو یہ ہے کہ اندھی دُنیا مُردہ کا