مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 285

مجموعہ اشتہارات ۲۸۵ جلد دوم اس جگہ یہ لکھنا بھی اپنے احباب کے لئے وصایا ضرور یہ میں سے ہے کہ ہم نے نہ محمد حسین کے لئے اور نہ گنگا بشن کے لئے کوئی ایسی شرط لگائی جو ہماری گریز اور بد نیتی پر محمول ہو سکے۔ہم خوب جانتے ہیں اور یقین کامل سے جانتے ہیں کہ ان تمام مخالفوں کو خدا تعالیٰ ایک ذلیل کرے گا۔اگر چہ خدا تعالیٰ محمد حسین اور گنگا بشن کو چند ہفتہ تک جزائے بیبا کی دے سکتا ہے لیکن ایک سال شرط بوجہ رعایت سنت اور الہامات متواترہ کے ہے۔اور محمد حسین کے لئے جو یہ شرط ٹھیرائی گئی کہ قسم کھانے سے پہلے دو گھنٹے تک ہمارے الہام اور پیشگوئی لیکھر ام والی کے متعلق دلائل سنے۔یہ گریز نہیں ہے۔بلکہ یہ ام مسنون ہے کہ تا خدا تعالیٰ کی حجت بالمواجہ پوری ہو جائے ممکن ہے کہ بباعث اس زنگ کے جواس کے دل پر ہے کوئی امر اس پر مشتبہ ہو۔پس بالمواجہ بیان کرنے سے یہ تمام دلائل اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کا الزام اس پر پورا ہو جائے گا۔بے شک خدا تعالیٰ مفسدوں کو ہلاک کرتا ہے۔لیکن جب تک کوئی مفسد صریح جھوٹ بول کر اس کے قانون کے نیچے نہ آوے یا صریح طور پر کسی ظلم کا ارتکاب نہ کرے تب تک خدا تعالیٰ اس دنیا میں اس کو نہیں پکڑتا اور اس کا حساب عالم آخرت کے سپرد ہوتا ہے۔اسی وجہ سے محمد حسین کے بارے میں دو گھنٹے تبلیغ کی شرط لگائی گئی۔اور ایک سال کی میعاد مقرر کی گئی اور گنگا بشن کے معاملہ میں جو ہم نے لاش لینے کی شرط لگائی۔یہ اس کی شرط کے بعد لگائی گئی یعنی جبکہ اس نے ہماری لاش لینے کے لئے شرط پیش کی۔پس ہمیں انصافاً حق تھا کہ اس کی اس درجہ کی سخت گیری اور توہین کے ساتھ ہم بھی لاش کی شرط لگاتے۔اگر فرض کر لیں کہ اس نے صرف ٹھٹھا کیا لیکن تو ہین تو کی۔اس لئے خدا نے اس کی واقعی تو ہین کا ارادہ کیا۔یہ اس کی سزا تھی جس کی ابتداء اسی نے کی۔یہ بھی خوب یادر ہے کہ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ لاش لینے کی شرط گنگا بشن نے خود کی تھی۔اور ایسا کلمہ منہ پر لانا نہ میری تو ہین بلکہ دین اسلام کی تو ہین تھی۔اور اس کی سزا یہی تھی کہ فتحیابی کی حالت میں اس کی لاش ہمیں ملے تا وہ کلمہ جو شوخی سے وہ ہمارے لئے منہ پر لایا وہ واقعی طور پر اس پر واقع ہو۔اس میں ہماری کیا زیادتی تھی اور کونسی ہم نے گریز کی۔کیا ہم نے ابتداء یہ شرط ٹھہرائی تھی۔