مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 14
مجموعہ اشتہارات ۱۴ جلد دوم منصف اور حق شناس ہے جو ان کلمات کے قائل کو ایک گندہ طبع اور بد زبان خیال نہیں کرتا۔ہمیں یقین تھا کہ سکھ صاحبان ان ناپاک کلمات کا جواب ضرور دیں گے اور اپنی اُس محبت اور غیرت کو جو باوانا تک صاحب کی نسبت وہ رکھتے ہیں لوگوں پر ظاہر کریں گے۔مگر افسوس کہ اب تک ان کی طرف سے کچھ آواز نہیں اُٹھی۔لہذا ہمیں ایسے راستباز انسان کے لیے سچی ہمدردی نے مجبور کیا کہ ہم ہی کچھ لکھیں اور جب کہ ہم نے غور کی کہ کس بات نے دیا نند کو ایسی سخت زبانی پر آمادہ کیا تو اسی کی تحریر سے معلوم ہوا کہ باوانا تک صاحب نے اپنے گرنتھ میں آریوں کے وید کی نسبت محض حق گوئی کی راہ سے جیسا کہ حق پسند ان کی عادت تھی، وہ رائے ظاہر کی جو حقیقت میں سچی اور اپنے محل پر ہے اور راست گوئی کے جوش میں کسی کی بھی پروا نہیں رکھی۔یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ ویدوں میں بجز گمراہ کرنے والی باتوں کے اور کچھ بھی نہیں لے اور ہم جانتے ہیں کہ باوا نا نک صاحب نے محض حقیقت شناسی اور ہندوؤں کی ہمدردی سے نصیحت کے طور پر ایسی باتیں کہی ہیں اور سچ کہا ہے جو کچھ کہا ہے۔ے نوٹ۔ہم نے رسالہ ست بچن میں صرف یہی ثابت نہیں کیا کہ باوا نا تک صاحب نے چاروں ویدوں کی اپنے پر زور کلام سے تکذیب کی ہے۔بلکہ ایک بڑی بات جوشکر گذاری کے قابل ہے یہ ہے کہ باوا صاحب موصوف نے نہایت عمدہ دلائل کے ساتھ ثابت کر دیا کہ دنیا میں سچا مذہب جو ذریعہ نجات ہے صرف اسلام ہے اور اپنی زندگی میں اپنے قول اور فعل سے صداقت اسلام پر گواہیاں دیں اور نہایت وضاحت سے بپایہ ثبوت پہنچا دیا ہے کہ وہ اس پاک جماعت کے سرگرم مسلمانوں میں سے اور اس راہ میں فدا شدہ ہیں۔چنانچہ وہ تمام ثبوت ہم نے رسالہ ست بچن میں لکھ دیئے ہیں تا باوا صاحب کے رُوحانی کمالات لوگوں پر گھل جائیں۔سو ہر یک حق کے طالب کو چاہیے کہ یہ دونو رسالے منگوائے اور ہمارے مخالف نادان مولوی ڈوب مریں کہ باوجود اس قدر لاف و گزاف کے انہوں نے اسلام کی کچھ بھی خدمت نہیں کی۔صرف مسلمانوں کو کا فر بنانا جانتے ہیں۔مگر باوا صاحب چھ کروڑ ہندوؤں کو اپنے قول و فعل سے اسلام کی ترغیب دے گئے اور ایسے طور سے اپنے اقوال سے اور اپنے افعال سے اسلام کی سچائی کی گواہی دی کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں سچ سچ فدا شدہ نہ ہو ایسا کامل نمونہ ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔واه با دانا تک صاحب آپ بے شک عزت کے لائق ہیں۔آپ کا وصیت نامہ جو اسلام کی سچائی کے لیے ایک سوتی کپڑا پر لکھا ہوا کابلی مل کی اولاد میں اب تک موجود ہے۔اُس کا ذکر بھی رسالہ ست بچن میں تفصیل کیا گیا ہے۔منہ