مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 281

مجموعہ اشتہارات ۲۸۱ جلد دوم مصلحت تھا کہ اگر لاش دستیاب نہ ہو تو بجائے لاش وہی روپیہ ہمیں مل جائے۔اور یہ عذر فضول ہے کہ میں آریہ سماج کا ممبر نہیں تا وہ اس قدر میرے لئے ہمدردی کر سکیں کہ دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص جو آریہ سماج کے دعوئی کی تائید میں اپنی جان قربان کرنا چاہتا ہے کیا ان کی نظر میں وہ قابل قدر نہیں؟ بے شک ایسا شخص جو آریہ مذہب کی عزت کے لئے جانفشانی تک طیار ہے نہ صرف آریہ سماج کا ممبر بلکہ ان کے مقدس لوگوں میں سے شمار ہونا چاہیے۔ایسے جان نثار کی ہمدردی کے لیے دس ہزار روپیہ کیا حقیقت ہے۔ناظرین کو معلوم ہے کہ بعض آریہ پر چوں میں لالہ گنگا بشن صاحب کو اس لاف زنی کے وقت آریہ بہادر کا خطاب بھی مل چکا ہے۔تو اب آریہ صاحبان کیونکر منظور کریں گے کہ اس بہادر پر شکست کا کلنگ لگے؟ خلاصہ کلام یہ کہ ہم شرائط کو بدلنا نہیں چاہتے۔یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ آئے دن شرطیں بدلی جائیں۔اور یادر ہے کہ گنگا بشن صاحب کو دس ہزار روپیہ جمع کرانا کچھ بھی مشکل نہیں۔کیونکہ اگر آریہ صاحبوں کی بھی درحقیقت یہی رائے ہے کہ لیکھرام کا قاتل درحقیقت یہی راقم ہے اور وہ یقین دل سے جانتے ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہی سب جھوٹی باتیں ہیں۔بلکہ اس راقم کی سازش سے وقوع قتل ظہور میں آیا ہے تو وہ بشوق دل لالہ گنگا بشن کو مدددیں گے اور دس ہزار کیا وہ پچاس ہزار تک جمع کرا سکتے ہیں۔اور وہ یہ بھی انتظام کر سکتے ہیں کہ جو دس ہزار روپیہ مجھ سے لیا جائے گا وہ آریہ سماج کے نیک کاموں میں خرچ ہو گا۔تو اب آریہ صاحبوں کا اس بات میں کیا حرج ہے کہ بطور ضمانت لاش دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں۔بلکہ یہ تو ایک مفت کی تجارت ہے جس میں کسی قسم کا دھڑ کا نہیں۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ گورنمنٹ کو معلوم رہے گا کہ آریہ قوم کی رضا مندی سے یہ معاملہ وقوع میں آیا ہے۔اور نیز اس اعلیٰ نشان سے روز کے جھگڑے طے ہو جائیں گے۔اور اگر یہ حالت ہے کہ آریہ قوم کے معزز لالہ گنگا بشن کو اس رائے میں کہ یہ عاجز لیکھر ام کا قاتل ہے جھوٹا سمجھتے ہیں۔اسی واسطے اس کی ہمدردی نہیں کر سکتے اور جانتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹا ہے کہ آخر اس پر خدا کا عذاب آئے گا۔ہم دس ہزار روپیہ کیوں ضائع کریں تو ایسے جھوٹے کو اپنے مقابلہ پر بلا نا جس کی قوم ہی اس کو بد چلن اور دروغگو خیال کرے، ایک نا اہل کو عزت دینا ہے۔