مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 282
مجموعہ اشتہارات ۲۸۲ جلد دوم غرض اگر آر یہ صاحبوں کے معزز لوگوں کی میری نسبت یہ رائے نہیں ہے کہ میں لیکھرام کا قاتل ہوں تو اس کے بعد مجھے اس جھگڑے میں پڑنا ضروری نہیں۔کیونکہ اگر شریف اور معزز آریہ مجھ کو اس جرم سے بری سمجھتے ہیں اور ایسی تہمت لگانے والے کو جھوٹا اور کا ذب خیال کرتے ہیں تو پھر مجھے کونسی ضرورت ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ کا فکر کروں جس کو پہلے سے اس کی قوم ہی جھوٹا تسلیم کر چکی ہے۔میں نے لالہ گنگا بشن کو دس ہزار روپیہ دینا اس خیال سے منظور کیا تھا کہ معزز آریہ اندرونی طور پر اس کے ساتھ ہوں گے اور وہ بطور وکیل ہوگا۔غرض اب شرائط ہر گز کم و بیش نہیں کی جائیں گی۔لالہ گنگا بشن یا درکھیں کہ ہمارے اشتہار میں دس ہزار روپیہ کی کوئی شرط نہیں تھی۔ہم نے ان کی بات کو صرف اسی لحاظ سے مان لیا تھا کہ ان کے لئے یہ روپیہ ہماری پھانسی کی جگہ فتح کا نشان ہو۔سوا گروہ آریہ قوم کے نزدیک جو اصل مدعی اور لیکھر ام کے وارث اور اس کے لئے غیرت رکھتے ہیں اپنی رائے میں سچے ہیں تو ان سے لے کر دس ہزار روپیہ جمع کر دیں یا اُسی غیبی امداد والے شخص سے لے لیں جس نے بھاری امداد کا وعدہ فرمایا ہے یعنی جس کا ذکر انہوں نے صفحہ سات اشتہار میں کیا ہے۔اگر منظور نہیں تو آئیندہ اُن کو ہرگز جواب نہیں دیا جائے گا۔اور ان کے مقابل پر یہ ہمارا آخری اشتہار ہے۔لے وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتہر میرزا غلام احمد قادیانی ۲۷ اپریل ۱۸۹۷ء ( مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان) تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۹۹ تا ۱۰۲) ا نوٹ۔اگر لالہ گنگا بشن حسب منشاء ہمارے اشتہار ۱۶ / اپریل ۱۸۹۷ء کے دس ہزار روپیہ ہمارے لئے ایسی جگہ جمع کرا دیں جس کے وصول ہونے میں کچھ وقت نہ ہو تو اس صورت میں یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ بذریعہ اپنے اشتہار کے مجھے اطلاع نہ دیں بلکہ بذریعہ ایک معتبر اخبار کے جیسا کہ اخبار عام یا پیسہ اخبار مطلع کریں۔اور تمام شرائط منظور شدہ فریقین اس میں درج کرا دیں ورنہ آئندہ ہم سے کچھ خط و کتابت نہ کریں۔منہ