مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 205
مجموعہ اشتہارات جلد دوم الغرض عیسی علیہ السلام کی وفات نصوص قرآنیہ اور حدیثوں سے ثابت ہے اور کسی شخص کو انکار کی جرات نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرآن وحدیث سے روگردانی کرے اور اس آیت کے معنے تفسیر بالرائے کے ساتھ کرلے اور اگر چہ لفظ توفی کے معنوں پر اہل لغت کا اتفاق ہے اور اس قاعدہ مستمرہ کے مطابق ہیں کہ جب کسی عبارت میں اس لفظ کا فاعل خدا ہو اور مفعول یہ کوئی انسانوں میں سے ہو تو اس صورت میں توقی کے معنے مارنے میں محصور ہوں گے۔اور سوائے مارنے اور قبض روح کے کوئی دیگر معنی اس جگہ نہیں ہوں گے۔لیکن اس جگہ ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم عرب کی لغت کی کتب کی طرف رجوع کریں۔ہم اس جگہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن عباس کے قول کو صحیح بخاری میں پاتے ہیں۔اور یہ دونوں کافی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرتا ہے وہ منافق ہوگا نہ کہ مومن۔پس چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ تَوَفَّيْتَنِی کو جو مذکورہ آیت میں ہے اس کا اپنے اوپر اطلاق فرمایا ہے اور معنے وفات کے صریح طور بیان فرمائے ہیں اور ابن عباس نے ان معنوں کی وضاحت کو مارنے کے معنوں میں ظاہر کیا ہے اور شارح عینی نے ابن عباس کے قول کو به تمام و کمال بیان فرمایا ہے۔پس اتنی وضاحت کے بعد ہمیں کسی ثبوت دیگر کی ضرورت نہیں۔اگر چہ ہم دوسرے ثبوت بھی رکھتے ہیں۔لغت عرب ہمارے ساتھ ہے۔انسانی عقل ہمارے ساتھ ہے، دیگر قوموں کا اقرار ہمارے ساتھ ہے، اسلام کے اکثر ائمہ کا تصور واقرار ہمارے ساتھ ہے اور بلا دشام میں ابھی تک حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر موجود ہے۔ے اں کس کہ بقرآن و خبر زونرہی این است جوابش کہ جوابش ندہی لے لیکن جو کچھ شیخ نجفی کہتے ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام مر چکے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ خدا انہیں (عیسی کو ) دوسری دفع زندہ کر کے دنیا میں لے آئے۔ان کا یہ قول اس وقت تک التفات کے لائق نہیں جب تک کہ وہ اسے قرآن شریف یا حدیث سے ثابت نہیں کرتے کہ فلاں قبر آخری زمانے میں پھاڑی جائے گی اور اس میں سے عیسی باہر آئیں گے۔اس لئے کہ کسی کا خیال جس ا ترجمہ۔جس شخص سے تو قرآن وحدیث (بیان کرنے سے رہائی نہ پاسکے اس کا ( صحیح ) جواب یہ ہے کہ اس کو جواب نہ دے۔