مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 204

مجموعہ اشتہارات ۲۰۴ جلد دوم آیت کریمہ پر غور کرے گا وہ (قرآن کے) منطوق و مفہوم میں غور کرے گا وہ بداہت نظر کے ساتھ عیسی علیہ السلام کی وفات ہی سمجھے گا اور قطعی ویقینی طور پر ان کی وفات پر ہی ایمان لائے گا۔اور حضرت عیسی کی وفات پر بصیرت حاصل ہو جانے کے بعد موت عیسی“ سے انکار کو نہ صرف ضلالت بلکہ الحاد اور زندیقیت شمار کرے گا۔ممکن ہے کسی کو اپنی نادانی کے سبب لفظ توفی کے معنی میں تردد پیدا ہو جائے۔لیکن جب حدیث کی طرف اور صحابہ کی روایات کی طرف رجوع کرے گا تو اس کا یہ سب تردد کالعدم ہو جائے گا۔اس لئے کہ وہ وہاں اس آیت کی تفسیر میں بجز امانت یعنی مارنے کے دوسرے معنے نہیں پائے گا۔کیا تو نہیں دیکھتا صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔مُتَوَفِّيْكَ : مُمِيْتُكَ “ یعنی مُتَوَفِّیک کے یہ معنے ہیں: میں تجھے مارنے والا ہوں۔اور ہم نے ہر چند کہ کتب حدیث کا سیر حاصل مطالعہ کیا ہے اور تمام روایات واقوال صحابہ کو دیکھا اور خود ہم نے پڑھا ہے اور (لوگوں سے سنا بھی ہے لیکن کسی جگہ نہیں پایا کہ اس کی شرح میں سوائے اِمَانَتْ کے معنی کے کوئی دوسری چیز کسی حدیث یا کسی روایت یا کسی قول میں آئی ہو اور ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جو کچھ صحابہ کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے توفی کے معنی میں آیت مذکورہ میں ثابت ہے وہی مارنے کے معنے ہیں کوئی اور نہیں اور نہیں کہا جا سکتا کہ مارنا مسلم ہے لیکن وہ موت ابھی واقع نہیں ہوئی بلکہ آئندہ واقع ہوگی۔اس لئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی والی آیت میں فرماتے ہیں کہ ضلالت نصاری کافتنہ میری موت کے بعد وقوع میں آیا ہے نہ کہ میری موت سے پہلے۔پس اگر چہ یہ فرض کریں کہ وعدہ موت ابھی ظہور میں نہیں آیا ہے اور عیسی علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں پس ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم یہ بھی قبول کر لیں کہ نصاری ابھی تک صراط مستقیم پر ہیں اور ابھی تک گمراہ نہیں ہوئے ہیں۔کیونکہ مذکورہ آیت میں عیسائیوں کی گمراہی موت عیسی سے وابستہ ہے۔پس جب تک عیسی علیہ السلام مردہ نہیں ہوں گے عیسائیوں کو کس طرح گمراہ کہا جا سکتا ہے علماء اور قوم کی عقل پر تعجب ہے کہ ہماری قوم اس آیت کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نصوص صریحہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اوہام کو اپنے مذہب کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔