مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 206

مجموعہ اشتہارات جلد دوم کے ساتھ ثبوت نہ ہو لائق قبول نہیں ہوسکتا بلکہ اپنے پاس سے ایسے خیالات تر اشنا اور قرآن وحدیث سے اس کی سند پیش نہ کرنا دیانتداری اور پرہیز گاری سے بہت دور ہے۔اگر یہی مذہب ان کے دل کو پسند ہے۔پس سندلانی چاہیے اور کوئی حدیث پیش کرنی چاہیے کہ جس سے معلوم ہو جائے کہ فلاں قبر سے مسیح باہر آئیں گے البتہ اس قسم کی حدیث کے ثابت ہونے کے بعد یہ سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی اس حدیث کو قبول نہ کرے۔مگر یہ بدقسمتی ہمارے مخالفین کی ہے کہ ان یاوہ گوئیوں کی تائید میں ان کے پاس کوئی حدیث اور آیت نہیں ہے۔نہ تو قرآن کی شہادت مسیح کی حیات پر لا سکتے ہیں اور نہ وہ حدیث سے ثابت کر سکتے ہیں فلاں قبر پھاڑی جائے گی اور اس سے عیسی باہر آئیں گے۔اور عقیدہ حیات مسیح اور جسم عنصری کے ساتھ ان کا آسمان پر چڑھنا ایسی چیز ہے کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت لانا ایک محال امر ہے۔ہاں ! بعض حدیثوں میں لفظ ”نُزُول“ موجود ہے۔لیکن یہ نادان نہیں جانتے ہیں کہ 66 اس لفظ عیسی سے وہی عیسی مراد ہے جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔پس نُزُول“ کے بجائے رُجُوع “ کا لفظ ہونا چاہیے نہ کہ نُزُول“۔اس لئے کہ جو کوئی واپس آتا ہے اسے نازل نہیں کہتے۔بلکہ اسے راجع “ کہتے ہیں۔عجیب قوم ہے کہ اس نے تعصب کے جوش سے لغت عرب کے محاورات کو بھلا دیا ہے۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ سر کا رشیخ نجفی پر لازم ہے کہ مذکورہ بالا دوطریق میں سے کسی طریق کو اختیار کریں تا کہ وہ راستی کا چہرہ دیکھیں اور اپنے اوپر عشو تکبر کا خبط روانہ رکھیں۔یعنی یا عیسی کا بجسم عصری قرآن و حدیث سے آسمان پر چڑھنا ثابت کریں یا کسی قبر پر انگلی رکھیں کہ اس قبر سے نوٹ۔حضرت شیخ الاسلام نے اپنے خط میں وعدہ فرمایا ہے کہ میں چالیس منٹ میں نشان دکھا سکتا ہوں۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔اخبار غیبیہ میں سے صرف ایک بذریعہ اشتہار شائع کر دیں اور ہم انہیں (نشان دکھانے کے لئے ) چالیس منٹ کی بجائے چالیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں۔پس اگر چالیس روز میں ہماری طرف سے نشان ظاہر نہ ہوا اور ان ( شیخ صاحب) کی طرف سے چالیس منٹ میں نشان ظاہر ہو گیا یا بفرض محال بالمقابل ہمارے ان کی طرف سے بھی چالیس دن میں نشان ظاہر ہو گیا تب بھی ہم ان کی بزرگی پر ایمان لے آئیں گے اور اپنے دعوی کو ترک کر دیں گے۔لیکن اگر اس مدت میں ہماری طرف سے کسی نشان کا ظہور ہوا اور ان ( شیخ صاحب) کی طرف سے کچھ بھی ظاہر نہ ہوا تو یہی ہمارے لئے دلیل صداقت اور ان کے کذب پر گواہ ہوگی۔منہ