مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 203
مجموعہ اشتہارات ٢٠٣ جلد دوم میرا خدا جو میرے ساتھ ہے اُس نے مجھے غیب کے نشانات کے ساتھ بھیجا ہے اور اس نے انوار و برکات ظاہر فرمائے ہیں۔وہ نور جو اس نے تمام ائمہ اہل بیت کو عطا فرمایا ہے اور اب وہ گم ہو چکا تھا وہی نور اکمل و اتم طور پر میرے لئے ظاہر فرمایا ہے اور مجھے متواتر ہونے والے الہامات اور بکثرت ظاہر ہونے والے نشانات سے یقین بخشتا ہے کہ میں وہی مسیح موعود مہدی معہود اور امام آخر زماں ہوں جس کا ذکر احادیث نبویہ اور اسلاف صالحین کی روایات میں آتا ہے اور دعویٰ مسیحیت اور مہدویت ایسا امر نہیں ہے جو بے دلیل ہو اور نہ بیہودہ اور باطل باتیں ہیں جو کوئی اصلیت اور حقیقت نہ رکھتی ہوں۔بلکہ اپنے دعوی کی سچائی پر ہم وہ سب قسم کے دلائل رکھتے ہیں کہ مرسلین اور مبعوثین کے ساتھ اللہ کا جو دستور ظاہر ہو چکا ہے اب اگر کوئی منکر اپنے خیال میں یہ دعویٰ قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف سمجھتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ خود عیسی بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے وہ علم قرآن وحدیث سے بے بہرہ ہے لے اگر کوئی اپنے اصرار سے باز نہیں آتا تو یہ بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ قرآن شریف اور احادیث نبویہ سے عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کرے۔لیکن ہر عقلمند جانتا ہے کہ حیات عیسی علیہ السلام کو ثابت کرنا ایک محال اور باطل خیال ہے۔اس لئے کہ قرآن شریف نے بڑی وضاحت سے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ عیسی وفات پاچکے ہیں اور ایسا مومن جو اپنے دل میں رب جلیل کے کلام کی عظمت رکھتا ہے اس کے لئے یہ آیت کافی ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ اب اے اس آیت کے سننے والے غور سے دیکھ کہ کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ اس آیت سے وفات کے علاوہ کوئی دیگر معنی نکال سکے۔یہ ہرگز ممکن نہیں بلکہ ہر منصف اور محقق کہ جو ے یا درکھنا چاہیے کہ اکابر کا مذہب اور اس امت کے ائمہ کا مذہب یہی ہے کہ عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔چنانچہ امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رضی اللہ عنہ اپنی جلالت شان کے باوجود عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔نہ صرف یہ دو امام بلکہ امام بخاری اور دیگر اکثرا کا بر وفات کے عقیدے کی طرف گئے ہیں۔المائدة : ١١٨