مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 166
مجموعہ اشتہارات ۱۶۶ جلد دوم روم میں مخبری کی کہ یہ شخص باغی ہے۔سو میں بار بار اس گورنمنٹ عادلہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے میں اس دنیا کی حکومت اور ریاست کو نہیں چاہتا اور بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر صلح کاری سے حق کو پھیلانا میرا مقصد ہے۔اور میں تمام ان باتوں سے بیزار ہوں جو فتنہ کی باتیں ہوں یا جوش دلانے والے منصوبے ہوں۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ بیدار طبعی سے میری حالت کو جانچے اور گورنمنٹ روم کی شتاب کاری سے عبرت پکڑے اور خود غرض مولویوں یا دوسرے لوگوں کی باتوں کو سند نہ سمجھ لیوے کہ میرے اندر کھوٹ نہیں اور میرے لبوں پر نفاق نہیں۔اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج کرتا ہوں جن کو میں نے مباہلہ کے لیے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جَلَّ شَانُ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد میدانِ مباہلہ میں آویں اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کا فر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔اور بعض کا فر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں مگر مفتری اور کذاب اور دقبال نام رکھتے ہیں۔بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کیلئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں اور در حقیقت ہر یک شخص جو باخدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے وہ مکذبین میں داخل ہے۔کیونکہ اگر مکذب نہ ہوتا تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی تھی کہ اس کی مدد کرو اور اس کو میرا اسلام پہنچاؤ اور اس کے مخلصین میں داخل ہو جاؤ تو ضرور اس کی جماعت میں داخل ہو جاتا۔اور صاف باطن فقراء کیلئے یہ موقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اور ہر یک کدورت سے الگ ہو کر اور کمال تضرع اور ابتہال سے اس پاک جناب میں توجہ کر کے اس راز سر بستہ کا اسی کے