مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 165

مجموعہ اشتہارات ۱۶۵ جلد دوم اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین۔مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سید ھے فیصلہ کی طرف رخ ہی نہیں کیا۔تا اگر میں ان کے خیال میں کا ذب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔ہاں بعض ان کے اپنی بدگوہری کی وجہ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکائتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے رہے اور کر رہے ہیں جیسا کہ شیخ بطالوی عَلَيْهِ مَا يَسْتَحِقُهُ اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جناب سے ردشدہ نہ ہوتے تو مجھے دکھ دینے کے لئے مخلوق کی طرف التجا نہ لے جاتے۔یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہو سکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے اور گورنمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بدخواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے۔یہ گورنمنٹ خدا کی گناہ گار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور بچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزار ہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیے اور رعایا ہوکر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض لکی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔تعجب ہے کہ یہ گورنمنٹ میری کتابوں کو کیوں نہیں دیکھتی اور کیوں ایسی ظالمانہ تحریروں سے ایسے مفسدوں کو منع نہیں کرتی۔ان ظالم مولویوں کو میں کس سے مثال دوں۔یہ ان یہودیوں سے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ناحق دکھ دینا شروع کیا اور جب کچھ پیش نہ گئی تو گورنمنٹ