مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 123
مجموعہ اشتہارات ۱۲۳ جلد دوم ہے۔انسان ان نادان بچوں کی طرح بن جائے تو ذرہ ذرہ سی بات میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں لیے پھر پادری ٹھا کر داس صاحب نے جب دیکھا کہ انجیل کی یکطرفہ تعلیم پر درحقیقت عقل اور قانونِ قدرت کا سخت اعتراض ہے تو ناچار ایک غرق ہونے والے کی طرح قرآن شریف کو ہاتھ مارا ہے تا کوئی سہارا ملے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب میں بھی اس کے یعنی اس انجیل کے حکم کی تعریف کی گئی ہے۔اور پھر ایک آیت کا غلط ترجمہ پیش کرتے ہیں کہ اگر بدلہ دو تو اس قدر بدلہ دو جس قدر تمہیں تکلیف پہنچے اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے اور اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ انجیلی تعلیم کے موافق ہے۔مگر یہ کچھ تو اُن کی غلطی اور کچھ شرارت بھی ، غلطی اس وجہ سے کہ یہ لوگ علم عربیت سے محض ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔اس لیے ان کو کچھ بھی استعداد نہیں کہ قرآن کے الفاظ سے اس کے صحیح معنی سمجھ سکیں اور شرارت یہ کہ آیت صریح بتلا رہی ہے کہ اس میں انجیل کی طرح صرف ایک ہی پہلو در گذر اور عفو پر زور نہیں دیا گیا بلکہ انتظام کو توحکم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اور عفو کی جگہ صبر کا لفظ ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے جو سزاد ینے میں جلدی نہیں چاہیے اور عفو کر نے کے لیے کوئی حکم نہیں دیا۔مگر پھر بھی پادری ٹھا کر داس صاحب نے دانستہ اپنی آنکھ کو بند کر کے خواہ نخواہ قرآن شریف کی کامل تعلیم کو انجیل کی ناقص اور کمی تعلیم کے ساتھ مشابہت دینا چاہا ہے۔لے حاشیہ۔یہ کلمہ کہ قرآن جیسی کتاب میں بھی ایک تحقیر کا کلمہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی بزرگ اور مقدس کتاب کی نسبت پادری صاحب نے استعمال کیا ہے۔ہمیں بڑا تعجب ہے کہ یہ مُردہ پرست قوم اللہ جل شانہ کے پاک کلاس سے اس قدر کیوں بغض رکھتی ہے۔منہ ے نوٹ یہ بے علمی کی شامت ہے کہ ار جنوری ۱۸۹۶ء پر چہ نور فشاں میں کسی نادان عیسائی نے اپنے یسوع کو مصداق قول الفَقْرُ فَخْرِی کا ٹھہرایا ہے۔سو انہیں یا در ہے کہ فقر قابل تحسین وہ ہے جس میں صاحب فقر کی سخاوت اور ایثار کا ثبوت ملے یعنی اس کو دنیا دی جائے مگر وہ دنیا کے مال کو دنیا کے محتاجوں کو دے دے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہ لکھوکھہا روپیہ پایا اور محتاجوں کو دے دیا۔ایک مرتبہ ایک کافر کو اونٹوں اور بکریوں کا پہاڑ بھرا ہوا بخش دیا۔آپ کے یسوع کا کسی محتاج کو ایک روٹی دینا بھی ثابت نہیں۔سو یسوع نے دنیا کو نہیں چھوڑا بلکہ دنیا نے یسوع کو چھوڑا۔ان کو کب مال ملا جس کو لے کر انہوں نے محتاجوں کو دے دیا۔وہ تو خود بار بار روتے ہیں کہ میرے لیے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ایسے فقر کے رنگ میں تو دنیا میں ہزار ہالنگوٹی پوش موجود ہیں جن کو داؤد نبی نے مور د غضب الہی قرار دیا ہے۔اور ایسے فقر کے لیے یہ حدیث ہے۔اَلفَقْرُ سَوَادُ الْوَجْهِ فِي الدَّارَيْنِ مِنه