مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 124
۱۲۴ جلد دوم مجموعہ اشتہارات ناظرین یا درکھیں کہ قرآن شریف کی آیت جس کا غلط ترجمہ ٹھا کر داس صاحب نے پیش کیا ہے، یہ ہے۔وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ، وَلَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ لا یعنی اگر تم ایزا کے بدلے ایذا دو تو اسی قدر دو جس قدر تم کو ایذا دیا گیا اور اگر تم صبر کرو تو صبر کرنا ان کے لیے بہتر ہے جو سزا دینے میں دلیر ہیں اور اندازہ اور حد سے گذر جاتے ہیں اور بد رفتار ہیں یعنی محل اور موقعہ کو شناخت نہیں کر سکتے۔لِلصَّابِرِينَ میں جو صبر کا لفظ ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ بے تحقیق اور بے محل سزا دینا اسی وجہ سے آیت میں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا لَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ بلکہ فرمایا لَهُوَ خَيْ لِلصَّبِرِينَ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس جگہ لفظ صبر کے وہ معنی نہیں جو پہلے لفظ میں ہیں۔اور اگر وہی معنی ہوتے ، تو بجائے لَكُمْ کے لِلصَّابِرِينَ رکھنا بے معنی اور بلاغت کے برخلاف ہوتا۔لغت عرب میں جیسا کہ صبر روکنے کو کہتے ہیں۔ایسا ہی بیجا دلیری اور بدرفتاری اور بے تحقیق کسی کام کرنے کو کہتے ہیں۔اب ناظرین سوچ لیں کہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہر ایک مومن پر یہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ اسی قدر انتقام لے جس قدر اس کو دُکھ دیا گیا ہے، لیکن اگر وہ صبر کرے یعنی سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو ان لوگوں کے لیے صبر بہتر ہے جن کی عادت چالا کی اور بد رفتاری اور بد استعمالی ہے یعنی جو لوگ اپنے محل پر سزا نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں سے بھی انتقام لیتے ہیں کہ اگر اُن سے احسان کیا جائے تو وہ اصلاح پذیر ہو جائیں یا سزا دینے میں ایسی جلدی کرتے ہیں کہ بغیر اس کے جو پوری تحقیق اور تفتیش کریں ایک بے گناہ کو بلا میں گرفتار کر دیتے ہیں۔اُن کو چاہیے کہ صبر کریں یعنی سزا دینے کی طرف جلدی نہ دوڑیں۔اول خوب تحقیق اور تفتیش کریں اور خوب سوچ لیں کہ سزا دینے کا محل اور موقعہ بھی ہے یا نہیں۔پھراگر موقعہ ہو تو دیں ورنہ رُک جائیں۔اور یہ مضمون صرف اسی آیت میں نہیں بیان کیا گیا بلکہ قرآن شریف کی اور کئی آیتوں میں بھی بیان ہے۔چنانچہ ایک جگہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے جَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ لَے یعنی بدی کی سزا اسی النحل : ۱۲۷ الشورى: ۴۱