مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 122

مجموعہ اشتہارات ۱۲۲ جلد دوم جگہ طمانچہ سے صرف ایک پیار اور محبت کا طمانچہ ہے جس میں آنکھ یا دانت کے نکلنے کا خطرہ نہیں تو آپ کے ٹیٹوع صاحب ایک نادان اور ژولیدہ زبان ٹھہریں گے جن کا کلام غیر منظم اور پریشان ہے کہ تعلیمی مقابلہ دکھلانے کے وقت آنکھ اور دانت کے مقابل پر گال کے طمانچہ کا ذکر کرتے ہیں جو محض ایک بے تعلق امر ہے۔ظاہر ہے کہ اگر گال کے طمانچہ میں آنکھ اور دانت کا ذکر کچھ بھی ملحوظ نہیں تو یہ عبارت سخت بے جوڑ اور منقطع ہوگی۔اور سابق اور لاحق کا کچھ بھی باہم ربط نہ ہوگا۔اگر یسوع صاحب کا وہی منشاء تھا جو پادری صاحب نے سمجھا ہے تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ تم سن چکے ہو کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ آنکھ اور دانت کے عوض میں تو تم ظالم کا مقابلہ کرو لیکن اگر کوئی ہلکا ساطمانچہ مارے جس سے نہ آنکھ پھوٹے اور نہ دانت نکلے تو اس کی برداشت کرلو۔مگر آپ کے یسوع صاحب نے ایسا نہیں کہا بلکہ انہوں نے تو آنکھ اور دانت کا ذکر کر کے پھر اپنی تعلیم کی فوقیت دکھلانے کے لیے ایسے عضو کا ذکر کیا جس پر ایک زور کا طمانچہ لگنے سے آنکھ اور دانت دونوں نکل سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایک نبی کا کلام بے ربط اور دیوانوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔آپ جانتے ہیں کہ یسوع صاحب کا مدعا تو یہی تھا کہ موسیٰ کی کتاب میں آنکھ نکالنے کی سزا آنکھ لکھی ہے مگر میری تعلیم اخلاقی صورت میں اس سے بڑھ کر ہے۔پس اگر یسوع صاحب کے قول کے اس جگہ وہ معنی کئے جائیں جن سے موسیٰ اور یسوع کی تعلیم ایک ہی بن جائے تو پھر اُن کا وہ اصل مقصد جو اخلاقی تعلیم کا زیادہ نمونہ دکھلانا ہے بالکل فوت ہو جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کی توریت میں کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ تم ہلکے ہلکے طمانچے کھا کر ان کے عوض بھی طمانچے مارا کرو اور ذرہ ذرہ سی باتوں میں مقدمے بناؤ۔بلکہ توریت میں صرف ایسی باتوں کو قانونِ قصاص میں داخل کیا ہے جن کو ایک متوسط العقل آدمی مواخذہ کے لائق سمجھتا ہے جیسے آنکھ پھوڑنا، دانت نکالنا، جان سے مارنا وغیرہ وغیرہ۔کیونکہ اگر ایسے ایسے شدید حملوں کو نہ روکا جائے تو بنی آدم کی زندگی ایک دن بھی ممکن نہیں۔یہ نہیں کہ اگر کوئی ذرہ جسم پر انگلی بھی لگادے تو اس پر بھی مقابلہ کے طور پر انگلی لگا دینی چاہیے۔یہ تو وحشیانہ حرکات ہیں اور نبیوں کی تعلیمیں ایسی رذیلانہ مقابلہ کی ہرگز رغبت نہیں دیتیں کہ جس میں اخلاقی حالت کا بالکل ستیا ناس ہو جائے اور