مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 26
خط ۱؎ مکرمی جناب پنڈت صاحب! آپ کا مہربانی نامہ عین اس وقت میں پہنچا کہ جب میں بعض ضروری مقدمات کے لیے امرتسر کی طرف جانے کو تھا۔چونکہ اس وقت مجھے دو گھنٹہ کی بھی فرصت نہیں اس لیے آپ کا جواب واپس آ کر لکھوں گا اور انشاء اللہ تین روز بغایت درجہ چار روز کے بعد واپس آ جائوں گا اور پھر آتے ہی جواب لکھ کر خدمت گرامی میں ارسال کروں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ مضامین برادر ہند میں درج ہوں مگرمیری صلاح یہ ہے کہ ان مضامین کے ساتھ دو ثالثوں کی رائے بھی ہو تب اندراج پاویں مگر اب مشکل یہ کہ ثالث کہاں سے لاویں ناچار یہی تجویز خوب ہے کہ آپ ایک فاضل نامی گرامی صاحب تالیف تصنیف کا براہم سماج کے فضلاء میں سے منتخب کر کے مجھے اطلاع دیں جو ایک خدا ترس اور فروتن اور محقق اور بے نفس اور بے تعصب ہو۔اور ایک انگریز کہ جن کی قوم کی زیر کی بلکہ بے نظیری کے آپ قائل ہیں انتخاب فرما کر اس سے بھی اطلاع بخشیں تو اغلب ہے کہ میں ان دونوں کو منظور کروں گا اور مَیں نے بطور سرسری سنا ہے کہ آپ کے برہمو سماج میں ایک صاحب کیشپ چندر نام لئیق اور دانا آدمی ہیں۔اگر یہی سچ ہے تو وہی منظور ہیں۔ان کے ساتھ ایک انگریز کر دیجیے۔مگر منصفوں کویہ اختیار نہ ہو گا کہ صرف اتنا ہی لکھیں کہ ہماری رائے میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ ہر ایک فریق کی دلیل کو اپنے بیان ۱؎ یہ خط بمنزلہ اشتہار کے تھا اور نہایت ضروری تھا کیونکہ حضرت اقدس ؑ نے بحث الہام کے متعلق پنڈت شیو