مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 384
ناظرین کی توجہ کے لایق اس بات کے سمجھنے کے لئے کہ انسان اپنے منصوبوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں کو روک نہیں سکتا یہ نظیر نہایت تشفی بخش ہے کہ سال گزشتہ میں جب ابھی فتویٰ تکفیر میاں بٹالوی صاحب کا طیار نہیں ہوا تھا اور نہ انہوں نے کچھ بڑی جدوجہد اور جان کنی کے ساتھ اس عاجز کے کافر ٹھہرانے کے لئے توجہ فرمائی تھی صرف ۷۵ احباب اور مخلصین تاریخ جلسہ پر قادیان میں تشریف لائے تھے۔مگر اب جبکہ فتویٰ طیار ہوگیا اور بٹالوی صاحب نے ناخنوں تک زور لگا کر اور آپ بصد مشقت ہر یک جگہ پہنچ کر اور سفر کی ہر روزہ مصیبتوں سے کوفتہ ہو کر اپنے ہم خیال علماء سے اس فتویٰ پر مہریں ثبت کرائیں اور وہ اور ان کے ہم مشرب علماء بڑے ناز اور خوشی سے اس بات کے مدعی ہوئے کہ گویا اب انہوں نے اس الٰہی سلسلہ کی ترقی میں بڑی بڑی روکیں ڈال دی ہیں تو اس سالانہ جلسہ میں بجائے ۷۵ کے تین سو ستائیس احباب شامل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لائے جنہوں نے توبہ کر کے بیعت کی۔اب سوچنا چاہیے کہ کیا یہ خدا تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا اور وہ سب کوششیں برباد گئیں۔کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھرتے پائوں بھی گھس گئے لیکن انجام کار خدا تعالیٰ نے ان کو دکھلا دیا کہ کیسے اُس کے ارادے انسان کے ارادوں پر غالب ہیں۔ ۔۱؎ اس سال میں خدا تعالیٰ نے دو نشان ظاہر کئے۔ایک ۱؎ یوسف: ۲۲