مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 383
تمام طاقت اور اپنے مال عزیز سے دین کی خدمت کر رہا ہے اس کو جائے اعتراض ٹھہرانا کس قسم کی ایمانداری ہے۔اے حضرات! مرنے کے بعد معلوم ہوگا ذرا صبر کرو وہ وقت آتا ہے کہ ان سب منہ زوریوں سے سوال کئے جائو گے۔آپ لوگ ہمیشہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ جس نے اپنے وقت کے امام کو شناخت نہ کیا اور مر گیا وہ جاہلیت کی موت پر مرا لیکن اس کی آپ کو کچھ بھی پرواہ نہیں کہ ایک شخص عین وقت پر یعنی چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نہ صرف چودھویں صدی بلکہ عین ضلالت کے وقت اور عیسائیت اور فلسفہ کے غلبہ میں اس نے ظہور کیا اور بتلایا کہ میں امام وقت ہوں اور آپ لوگ اس سے منکر ہوگئے اور اس کا نام کافر اور دجّال رکھا اور اپنے بد خاتمہ سے ذرا خوف نہ کیا اور جاہلیت پر مرنا پسند کیا۔اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ ۱؎ یعنی اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں۔نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پائو اس کے سایہ صحبت میں آجائو اور اس سے فیض حاصل کرو لیکن اس زمانہ کے مولویوں نے اس آیت پر خوب عمل کیا۔آفرین آفرین!! میں ان کو کس سے تشبیہ دوں وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو دوسروں کی آنکھوں کا علاج کرنے کیلئے بہت زور کے ساتھ لاف و گذاف مارتا ہے اور اپنی نابینائی سے غافل ہے۔بالآخر میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ اگر مولوی رحیم بخش صاحب اب بھی اس فتویٰ سے رجوع نہ کریں تو میں ان کو اللہ جَلَّ شَانُـہٗ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق ہیں تو اس بات کے تصفیہ کے لئے میرے پاس قادیان میں آجائیں میں ان کی آمد و رفت کا خرچ دے دوں گا اور ان پر کتابیں کھول کر اور قرآن اور حدیث دکھلا کر ثابت کر دوں گا کہ یہ فتویٰ ان کا سراسر باطل اور شیطانی اغوا سے ہے۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور (۱۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء) مطبوعہ ریاض ہند (یہ اشتہار آئینہ کمالات اسلام کے آخر میں بطور ضمیمہ صفحہ الف تا ح طبع ہوا ہے) (روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۰۵ تا ۶۱۲) ۱؎ الفاتحۃ: ۶،۷