مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 245
بھی جواب دے دیں تو آئندہ سب کے لئے مناسب ہے کہ غائبانہ طور پر بدزبانی اور غیبت کر کے ناحق اپنے تئیں عند اللہ قابل مواخذہ نہـ ٹھہرا ویں۔اب بحث کا آسان طریق جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں یہ ہے جو شرائط ذیل میں مندرج ہے۔(۱) یہ کہ کسی رئیس کا مکان اس بحث کے لیے تجویز ہو۔جیسے نواب علی محمد خان صاحب، شہزادہ نادر شاہ صاحب، خواجہ احسن شاہ صاحب۔اور جلسہ بحث میں کوئی افسر یورپین تشریف لاویں اور چند دیسی پولس مین بھی ہوں۔اور اگر یورپین افسر نہ ہوں توکوئی ہندو مجسٹریٹ ہی ہوں تا ایسا شخص کسی کا طرفدار نہ ہو۔(۲) یہ کہ فریقین کے سوال و جواب لکھنے کے لیے کوئی ہندو منشی تجویز کیا جائے جو خوشخط ہو۔ایک فریق اوّل اپنا سوال مفصل طور پر لکھا دیوے۔پھر دوسرا مفصّل طور پر اس کا جواب لکھا دیوے۔چند سوال میں فریق ثانی سائل ہو اور یہ عاجز مجیب اورپھر چند سوال میں یہ عاجز سائل اور فریق ثانی مجیب ہو۔اور ہر یک فریق کو ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ تک تحریر کا اختیار ہو۔سوال و جواب کی تعداد برابر ہو اور ہمیں وہی تعداد اور اسی قدر وقت منظور ہے جو فریق ثانی منظور کرے۔(۳) سوال و جواب میں خلط مبحث نہ ہو اور نہ کوئی خارجی نکتہ چینی اور غیر متعلق امر ان میں پایا جائے۔اگر کوئی ایسی تقریر ہو تو وہ ہرگز لکھینہ جائے بلکہ اس بے جا بات سے ایسی بات کرنے والا موردِالزام ٹھہرایا جائے۔(۴) ان سوالات و جوابات کے قلمبند ہونے کے بعد پھر دوبارہ عوام کو وہ سب باتیں سنا دی جائیں اور وہی لکھنے والا سُنا دیوے۔اور اگر یہ منظور نہ ہو تو فریقین میں سے ہریک شخص اپنے ہاتھ میں پرچہ لے کر سُنا دیوے۔(۵) ہر ایک فریق ایک ایک نقل اس تحریر کی اپنے دستخط سے اپنے مخالف کو دے دیوے۔(۶) آٹھ بجے سے دس بجے تک یہ جلسہ بحث ہو سکتا ہے۔اگر اس سے زیادہ بھی چاہیں تو وہ منظور ہے۔مگر بہرحال نماز ظہر کے وقت یہ جلسہ ختم ہو جانا چاہئیے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور