مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 244
لکھیں۔پہلے اس بات کا ظاہر کرنا ضروری ہے کہ سب سے اوّل بحث کرنے کا حق مولوی عبدالعزیز صاحب کو ہے کیونکہ وہ شہر کے مفتی اور اکثر لوگوں کے پیشوا اور مقتداء ہیں جو بار بار جامع مسجد میں برسرمنبر اعلان بھی دے چکے ہیں کہ ہم بحث کو تیار ہیں۔کیوں ہم سے بحث نہیں کرتے۔اور درحقیقت ان سے بحث کرنا نہایت ضروری بھی ہے کیونکہ خاص شہر لودیانہ کی نظر انہیں پر ہے۔سو یہ عاجز بمقابل ان کے بحث کے لیے بغرض اظہار حق تیار ہے۔اب ان کے مریدوں اور معاونوں کو بھی مناسب بلکہ عین فرض ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو بحث کے لیے آمادہ کریں اور اگر کسی کمزوری کی وجہ سے وہ گریز کریں تو اس گریز سے ان کی اندرونی حالت اورعلمی کمالات کا اندازہ اہلِ بصیرت خود ہی کر لیں گے۔ہماری طر ف سے تو مولوی صاحب موصوف کو بحالت ان کے عاجز رہ جانے کے یہ بھی اجاز ت ہے کہ اگر آپ بحث کرنے کاحوصلہ نہ دیکھیں تو اپنے برادر حقیقی مولوی محمد صاحب سے بحث کرنے کے لئے منّت کریں۔اور اگر وہ بھی بوجہ اپنی کسی حالت ناچاری کے جس کو وہ خوب سمجھتے ہوں گے جواب دے دیں تو پھر اپنے دوسرے بھائی مولوی عبد اللہ صاحب کی خدمت میں التجا لے جائیں۔اور اگر وہ بھی نہ مانیں توپھر بحالت لاچاری مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی سکول کی خدمت میں دوڑیں۔اور ان سے اس سختی کے وقت میں دستگیری چاہیں۔اور اگر وہ بھی صاف جواب دیں اور وقت پر کام نہ آویں تو پھر قریب قریب یقین کے ہے کہ دوم درجہ کے مفتی صاحب یعنی مولوی شاہدین صاحب ایسے اضطراب کی حالت میں ضرور کام آئیں گے اوران کو اپنی منطق اور وسعت معلومات کا دعویٰ بھی بہت ہے۔اور اگر وہ بھی گریز کر جائیں تو پھر استاد طائفہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خدمت میں مولوی شاہدین صاحب سے درخواست کرا ویں۔اور اگر وہ بھی خاموش رہیں توپھر موحدین کے گروہ میں سے اس شہر میں چیدہ و برگزیدہ حضرت مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لودیانہ ہیں کہ جو درحقیقت علاوہ کمالات علمی بڑے نیک اخلاق کے آدمی ہیں اور نیک نیّت اور بُردبار اور حلیم الطبع شخص ہیں۔ان کی طر ف سب کو رجوع کرنا چاہیئے اور ان کو اختیار ہو گا کہ چاہیں تو بذات خود بحث کریں اور چاہیں تواپنی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو بحث کے لیے وکیل مقرر کر دیں، لیکن اس وقت اگروہ