مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 145

موجودہ سے مخصوص نہیں ہے مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ آنکھوں کے اندھے بھی ہوجاتے ہیں۔بالآخر ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑکا عطا نہیں کیا کیونکہ اگر وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر بقیہ حاشیہ۔ہے کہ اس جگہ حمل موجودہ مراد نہیں لیا گیا بلکہ اس فقرہ کے دو معنے ہیں۔تیسرے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔اوّل یہ کہ مدّت موعودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔یعنی نو برس سے۔کیونکہ اس خاص لڑکے کے حمل کے لیے وہی مدّت موعود ہے۔دوسرے یہ معنے کہ مدّت معہودہ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔سو مدت معہودہ حمل کی اکثر طبیبوں کے نزدیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نزدیک انتہائی مدت حمل کی تین برس تک بھی ہے۔بہرحال ان دونوں وجوہ میں سے کسی و جہ کی رُو سے پیشگوئی کی صحت پر جرح نہیں ہو سکتا۔اسی لیے مرزا صاحب نے اسی اشتہار ۸؍ اپریل میں قیاسی طور پر یہ بھی صاف لکھ دیا تھا کہ غالباً وہ لڑکا اب یا اس کے بعد قریب حمل میں پیدا ہو گا۔اور پھر اس اشتہار کی اخیر سطر میں مرزا صاحب نے یہ بھی تحریر کر دیا کہ میںا س قدر ظاہر کرتا ہوں جو مجھ پر منجانب اللہ ظاہر کیا گیا اور آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہو گا۔وہ بھی شائع کیا جائے گا۔سو مرزا صاحب نے اپنے اسی اشتہار میں بتلا بھی دیا کہ اس اشتہار کا الہامی فقرہ مجمل اور ذوی الوجوہ ہے۔جس کی تشریح اگر خدا نے چاہا پیچھے سے کی جائے گی۔اب کیا کوئی انصاف پسند مرزا صاحب کے کسی لفظ سے یہ بات نکال سکتا ہے کہ وہ لڑکا ضرور پہلی ہی دفعہ پیدا ہو جائے گا نہ کسی اَور وقت۔سو ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ اسلام کے مخالف غلبۂ جوش تعصّب میں آکر اپنی وثاقت کو بھی کھو دیتے ہیں اور ناحق اپنی بد اندرونی کو لوگوں پر ثابت کرتے ہیں۔نہیں دیکھتے کہ جب تک میعاد مقررہ باقی ہے تب تک اعتراض کی گنجائش نہیں۔اور وقت سے پہلے شور و غوغا کرنے سے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہ پیشگوئی اپنے وقت پر پوری ہو گئی تو اس روز کیا حال ہو گا اور کیا کیا ندامتیں اُٹھانی پڑیں گی۔یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر ایسی بے ہودہ نکتہ چینیوں سے کسی حق الامر کو کچھ صدمہ پہنچ سکتا ہے۔تو پھر کوئی سچائی اس صدمہ سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی کئی پیشگوئیوں پر یہودیوں نے ایسی ایسی بلکہ اس سے بڑھ کر نکتہ چینیاں کی ہیں اور ان کی پیشگوئی کو دائرہ صداقت سے بالکل دور و مہجور سمجھا ہے۔مگر کیا ایسی بیہودہ نکتہ چینیوں سے ان کی سچائی میں کچھ فرق آ سکتا ہے۔بد باطن لوگ ہمیشہ بے ایمانی اور دشمنی کی راہ سے چاند پر