مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 146
پڑسکتا جو پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبّی کے رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم آدمی بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہوگا اور پنڈت لیکھرام پشاوری اور بعض دیگر مخالف اس عاجز پر یہی الزام رکھتے تھے کہ ان کو فن طبابت میں مہارت ہے انہوں نے طبّ کے ذریعہ سے معلوم کرلیا ہوگا کہ لڑکا پیدا ہونے والا ہے اسی طرح ایک صاحب محمد رمضان نام نے پنجابی اخبار ۲۰؍ مارچ ۱۸۸۶ء میں چھپوایا کہ لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دینا منجانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہوگا حاملہ عورت کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک ٹھیک بتلا سکتا ہے اور بعض مخالف مسلمان یہ بھی کہتے تھے کہ اصل میں ڈیڑھ ماہ سے یعنی پیشگوئی بیان کرنے سے پہلے لڑکا پیدا ہوچکا ہے جس کو فریب کے طور پر چھپا رکھا ہے اور عنقریب مشہور کیا جائے گا کہ پیدا ہوگیا۔سویہ اچھا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے تولّد فرزند مسعود موعود کو دوسرے وقت پر ڈال دیا ورنہ اگر اب کی دفعہ ہی پیدا ہوجاتا تو ان مضریاتِ مذکورہ بالا کا کون فیصلہ کرتا۔لیکن اب تولّدِ فرزند موصوف کی بشارت غیب محض ہے نہ کوئی حمل موجود ہے تا ارسطو کے ورکس یا جالینوس کے قواعد حمل دانی بالمعارضہ پیش ہوسکیں اور نہ اب کوئی بچہ چھپا ہوا ہے تا وہ مدت کے بعد نکالا جائے بلکہ نو برس کے عرصہ تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ نخواہ پیدا ہوگی چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اخبار مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی بلکہ دینی مخالفوں کی طرح جابجا مشہور افترا پردازوں سے اس عاجز کو نسبت دی ہے اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بقیہ حاشیہ۔خاک ڈالتے رہے ہیں لیکن انجام کار راستی کی ہی فتح ہوتی رہی ہے اور ایسی ہی اب بھی ہو گی۔مرزا صاحب کا رسالہ سراج منیر عنقریب نکلنے والا ہے۔اس میںنہ ایک پیشگوئی بلکہ وہ سارا رسالہ پیشگوئیوں ہی سے بھرا ہو اہے تب خود سچ اور جھوٹ میں فرق کھل جائیگا۔ذرا صبر کرنا چاہیے۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر میر عباس علی لدھیانوی۔ہشتم جون ۱۸۸۶ء (مطبوعہ شعلہ نور پریس بٹالہ)