مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 144
یا مدت معہودہ حمل سے (جو طبیبوں کے نزدیک اڑھائی برس یا کچھ زیادہ ہے) تجاوز نہیں کرسکتا۔اگر حمل موجودہ میں حصر رکھنا مخصوص ہوتا تو عبارت یوں چاہیے تھی کہ اس باقی ماندہ ایامِ حمل سے ہرگز تجاوز نہیں کرے گا اور اسی و جہ سے ہم نے اس اشتہار میں اشارہ بھی کردیا تھا کہ وہ فقرہ مذکورہ بالا حمل بقیہ حاشیہ۔جو محض ناخدا ترسی کی راہ سے بعض نادان متعصب آریوں اور عیسائیوں نے کیا ہے۔جس کا ذکر ایک شخص مسمّٰی پنڈت لیکھرام پشاوری کی طرف سے اشتہار مطبوعہ شفیق ہند پریس لاہور میں اور ایک عیسائی صاحب کی طرف سے پرچۂ نُور افشاں مطبوعہ ۳؍ جون میں دیکھا گیا ہے، یہ ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی سراسر غلط نکلی کہ میرے گھر میں لڑکا پیدا ہو گا کیونکہ ۱۵؍ اپریل کو ان کے گھر دُختر پیدا ہو گئی ہے۔فقط اب منصف لوگ جو راستی پسند ہیں۔مرزا صاحب کے اشتہارات کو پڑھ کر اور پھر جو کچھ اُن مخالفوں نے ان اشتہارات کا نتیجہ نکالا ہے۔اس پر بھی نظر ڈال کر سمجھ سکتے ہیں کہ ان لوگوں کا کینہ اور بُغض اور ان کا مادہ ناخدا ترسی اور دروغ گوئی کس حد تک بڑھ گیا ہے۔ہر سہ اشتہارات جو مرزا صاحب نے اس بارہ میں چھپوائے ہیں۔اس وقت ہمارے سامنے رکھے ہیں۔پہلا اشتہار جس کو مرزا صاحب نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو بمقام ہوشیار پور شائع کیا تھا۔اس میں کوئی تاریخ درج نہیں کہ وہ لڑکا جس کے صفات اشتہار میں درج ہیں کب اور کس سال میں پیدا ہو گا۔دوسرا اشتہار جو ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب کی طرف سے شائع کیا گیا۔یہ بہت مفید اشتہار ہے اس میں بتصریح تمام کھول دیا گیا ہے کہ وہ لڑکا نو برس کے اندر پیدا ہو جائے گا۔اس میعاد سے تخلّف نہیں کرے گا۔لیکن تیسرا اشتہار جو مرزا صاحب کی طرف سے ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء کو جاری ہوا۔اس کی الہامی عبارت ذوی الوجوہ اور کچھ گول گول ہے۔اور اس میں کوئی تصریح نہیں کہ وہ کب اور کس تاریخ میں پید اہو گا۔ہاں اس میں ایک یہ فقرہ ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدّ ت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔اب ظاہر ہے کہ یہ فقرہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ایک ذوی الوجوہ فقرہ ہے۔اگر الہامی عبارت کے سر پر لفظ اِس کا ہوتا یعنی عبارت یوں ہوتی کہ اس مدّت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ضرو ر اس میں پیدا ہو جائے گا تو بلاشبہ مواخذہ کی جگہ تھی۔مگر اب تو ناحق کی نکتہ چینی ہے جس سے بجُز اس کے کہ یہ ثابت ہو کہ معترض سخت درجہ کا متعصب اور کج فہم اور کج طبع یا سادہ لوح ہے اور کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔الہامات ربّانی یا قوانین سلطانی کی عبارتیں اس پایہ اور عزّت کی ہوتی ہیں جن کے لفظ لفظ پر بحث کرنا چاہیے۔سو الہامی عبارت میں اِس کا لفظ متروک ہونا (جس سے حمل موجودہ میں پیشگوئی محدود ہو جاتی) صریح بتلا رہا