مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 143
شرارت کا حجاب نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرہ کے معنی کرنے کے وقت وہ سب احتمالات مدّنظر رکھنی چاہیے جو اس فقرہ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ صاحب لدھانوی نے اپنے اشتہار٭ آٹھ جون ۱۸۸۶ء میں کی ہے یعنی یہ کہ مدت موعودہ حمل سے (جو نو برس ہے) ٭ حاشیہ۔یہ اشتہار بھی فائدہ عامہ کے لیے یہاں حاشیہ میں درج کیا جاتا ہے۔(مرتب) اشتہار واجب الاظہار ۱؎ مبارک وے جو را ستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔(انجیل ۵۔۱۰) ۲؎ جب سے مرزا غلام احمد صاحب (مؤلف براہین احمدیہ) نے یہ دعویٰ ہریک قوم کے مقابلہ پر کرنا شروع کیا ہے کہ خاص قرآن شریف میں ہی یہ ذاتی خاصیّت پائی جاتی ہے کہ اس کے سچّے اتباع سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں اور مقبولان الٰہی میں جگہ ملتی ہے۔اور نہ صرف دعویٰ کیا بلکہ ان باتوں کا ثبوت دینے میں بھی اپنا ذمہ لیا۔یوروپ اور امریکہ کے ملکوں تک رجسٹری کرا کر اسی ذمہ واری کے خط بھیجے اور اسی مضمون کا بیس ہزار اشتہار شایع کیا۔تب سے آریوں اور پادریوں وغیرہ کے دلوں پر ایک عجیب طور کا دھڑکا شروع ہو رہا ہے اور ہر طرف سے جزع اور فزع کی آوازیں آ رہی ہیں۔بالخصوص بعض اوباش طبع آریوں نے تو صرف زبان درازی اور دشنام دہی اور نالایق بہتانوں سے ہی کام لینا چاہا۔تا کسی طرح آفتاب صداقت پرخاک ڈال دیں۔مگر سچائی کے نُور اُن کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتے۔اور یہ تو قدیم سے عادت اللہ جاری ہے کہ ہمیشہ راست باز آدمی ستائے جاتے ہیں اور ان کے حق میں نااہل آدمی طرح طرح کی باتیں بولا کرتے ہیں۔مگر آخر حق کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔اب تازہ افترا ۱؎ الصفّ: ۹ ۲؎ انجیل متی باب ۵ آیت ۱۰