مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 111
اور بہنوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چیخیں مار کر روتی ہیں۔ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں۔اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتانے کے لئے صد ہا روپیہ کا پلائو اور زردہ پکا کر برادری میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس غرض سے کہ تا لوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی۔اچھا نام پیدا کیا۔سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔(۴) اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو۔دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیساکوئی بڑا بھار ا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ مَیں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاکدامن بیوی ہو گئی ہوں۔حالانکہ اس کے لیے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں۔جن کے ذریعہ شیطان اپنا کام چلاتا ہے جس عورت کو اللہ اور رسول پیارا ہے اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلا ش کرے۔اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔(۵) یہ بھی عورتوں میں خراب عادت ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ بُرا بھلا ان کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ اور رسول کے نزدیک لعنتی ہیں۔ان کا نمازروزہ اور کوئی عمل منظور نہیں۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری اپنے خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اس کی تعظیم بجا نہ لا ئے اور پسِ پُشت یعنی اس کے پیچھے اس کی خیر خواہ نہ ہو۔اور پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوںپر لازم ہے کہ اپنے مَردوں کی تابعدار رہیں۔ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں۔اور نیز فرمایا ہے کہ اگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی