مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 110
خبر دار کرنا چاہا تاہماری گردن پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے اور قیامت کو کوئی نہ کہہ سکے کہ ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا۔اور سیدھا راہ نہیں بتایا۔سو آج ہم کھول کر بآواز کہہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے۔یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے اور جو کچھ اَللّٰہ جَلَّشَانُہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی ہے۔اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں نہ دائیں۔اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں۔اور اس کے بر خلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں، لیکن ہمارے گھروں میں جو بدرسمیں پڑ گئی ہیں اگر چہ وہ بہت ہیں۔مگر چند موٹی موٹی رسمیں بیان کی جاتی ہیں تا نیک بخت عورتیں خدا تعالیٰ سے ڈر کر اُن کو چھوڑ دیں اور وہ یہ ہیں:۔(۱) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیاپا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات منہ پر لانا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے۔اور یہ سب رسمیں ہندوئوں سے لی گئی ہیں۔جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بُھلا دیا اور ہندوئوں کی رسمیں پکڑ لیں۔کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لیے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف کہیں۔یعنی ہم خد اکا مال اور مِلک ہیں۔اسے اختیار ہے۔جب چاہے اپنا مال لے لے۔اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ ہے وہ شیطان سے ہے۔(۲) دوم برابر ایک سال تک سوگ رکھنا۔اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیاپا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکڑا کر چلّا کر رونا اور کچھ کچھ مُنہ سے بھی بکواس کرنا۔اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے۔یہ سب ناپاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں۔جن سے پرہیز کرنا چاہیے۔(۳) سوم سیاپا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں۔حرام خور عورتیں، شیطان کی بہنیں جو دُور دُور سے سیاپا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکر اور فریب سے مونہہ کو ڈھانک کر