مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 112
کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکم ربّانی سُن کر پھر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چُرا ویں اور نا محرم سے اپنے تئیں بچا ویں۔اور یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اَور جتنے مَرد ہیں اُن سے پردہ کرنا ضروری ہے۔جو عورتیں نا محرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے۔عورتوں پر یہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھر میں نہ آنے دیں اور ان کو اپنی خدمت میں نہ رکھیں کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بد کار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔(۶) عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لیے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔کیونکہ اَللّٰہ جَلَّشَانُہٗ نے اپنی حکمت کاملہ سے جس میں صدہا مصالح ہیں۔مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں پھر جو شخص اللہ رسول کے حُکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اُس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں۔نہایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسُول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے ربّ کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بد ذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لیے دوسرا۲ نکاح ضرور کرے۔(۷) بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔پس اگر پہلی بیوی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ اُن عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔سو ان کو بھی خدا تعالیٰ سے