مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 109
جس شخص کے پاس یہ اشتہار پہنچے اس پر فرض ہے کہ گھر جا کر اپنے کنبے کی عورتوں کو تمام مضمون اس اشتہار کا اچھی طرح سمجھا کر سُناوے۔اور ذہن نشین کر دے اور جو عورت خواندہ ہو اس پر بھی لازم ہے کہ ایسا ہی کرے۔ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اشتہار بغرض تبلیغ و انداز چونکہ قرآن شریف و احادیث صحیحہ نبویہ سے ظاہر و ثابت ہے کہ ہریک شخص اپنے کنبہ کی عورتوں وغیرہ کی نسبت جن پر کسی قدر اختیار رکھتا ہے سوال کیا جائے گا کہ آیا بے راہ چلنے کی حالت میں اس نے ان کو سمجھایا۔اور راہِ راست کی ہدایت کی یا نہیں۔اس لیے میںنے قیامت کی باز پُرس سے ڈر کر مناسب سمجھا کہ ان مستورات و دیگر متعلقین کو (جو ہمارے رشتہ دار و اقارب و واسطہ دار ہیں) ان کی بے راہیوں و بدعتوں پر بذریعہ اشتہار کے انہیں خبر دار کروں۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے گلے کا ہار ہو رہی ہیں۔اور اُن بُری رسموں اور خلافِ شرع کا موں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے۔ہر چند سمجھایا گیا، کچھ سُنتے نہیں۔ہر چند ڈرایا گیا، کچھ ڈرتے نہیں، اب چونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں۔اس لیے ہم نے ان لوگوں کے بُرا ماننے اور بُرا کہنے اور ستانے اور دُکھ دینے سے بالکل لاپروا ہو کر محض ہمدردی کی راہ سے حق نصیحت پورا کرنے کے لیے بذریعہ اس اشتہار کے ان سب کو اور دوسری مسلمان بہنوں اوربھائیوں کو