مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 101
سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرا دے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔آپ اِس کے جواب میں اوّل تو مجھے اپنے پاس (نابھہ میں پھر لاہور میں) بُلاتے ہیں اور خود آنے کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں تو مباحثہ کے لیے نہ آسمانی نشان دیکھنے کے لیے۔اس پر طُرفہ یہ ہے کہ روپیہ اشتہار پیشگی طلب فرماتے ہیں جس کا مَیں نے پہلے وعدہ نہیں دیا۔اب آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری تحریر سے آپ کا جواب کہاں تک تفاوت رکھتا ہے بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تابہ کجا لہٰذا میں اپنے اُسی پہلے اقرار کے رُو سے پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ ایک سال رہ کر آسمانی نشانوں کا مشاہدہ فرماویں۔اگر بالفرض کسی آسمانی نشان کا آپ کو مشاہدہ نہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سو روپیہ دے دوں گا۔اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر اصرار ہو تو مجھے اس سے بھی دریغ و عذر نہیں۔بلکہ آپ کے اطمینان کے لیے سردست چوبیس سو روپیہ نقد ہمراہ رقیمہ ھٰذا ارسال خدمت ہے مگر چونکہ آپ نے یہ ایک امر زائد چاہا ہے۔اس لیے مجھے بھی حق پیدا ہو گیا ہے کہ میں اس امر زائد کے مقابلہ میں کچھ شرط ایسی کروں جن کا ماننا آپ پر واجبات سے ہے۔(۱) جب تک آپ کا سال گزر نہ جائے کوئی دوسرا شخص آپ کے گروہ سے زَرِ موعود پیشگی لینے کا مطالبہ نہ کرے۔کیونکہ ہر شخص کو زر پیشگی دینا سہل اور آسان نہیں (۲) اگر مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد اظہار اسلام میں توقف کریں اور اپنے عہد کو پورا نہ کریں تو پھر حرجانہ یا جُرمانہ دونوں امر سے ایک ضرور ہے۔(الف) سب لوگ آپ کے گروہ کے جو آپ کو مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی و مربی ہیں۔اپنا عجز ا ور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کر لیں اور وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کر کے اس تحریر کا آپ کو اختیار دیں۔پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔(ب) دوصورت تخلّف وعدہ جانب ثانی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں تاکہ وہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے( ایک اخبار تائید الاسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہلِ اسلام کے لیے قائم ہو)۔آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے