مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 100
اشتہار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوعہ ۱؎ خط جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتدائوں کے نام خاکسار نے روانہ کئے تھے۔جس کے جواب میںپہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھا کہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو۔اور زَرِموعودہ اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔وغیرہ وغیرہ۔ا س کے جواب میں خاکسار نے رقیمہ ذیل معہ دو ہزار چار سو روپیہ نقد ایک جماعت اہلِ اسلام کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود پر پہنچی تو منشی صاحب کو نہ پایا۔وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام وہ خط روانہ کیا تھا اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔باوجویکہ اس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریری لکھا تھا۔یہ امر نہایت تعجب اور تردّد کا موجب ہوا۔لہٰذایہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے۔اور اُس کی ایک کاپی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موجودہ ۲؎ بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔وہ یہ ہے:۔مشفقی اندر من صاحب! میرے اس خط کا جواب نہیں دیا۔ایک نئی بات لکھی ہے جس کی تعمیل مجھ پر اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک ۱؎ یہ خط جلد ھٰذا کے صفحہ ۲۶ پر ہے۔(مرتب) ۲؎ دراصل ’’موعودہ‘‘ لفظ ہے۔کاتب کی غلطی سے الحکم میں ’’موجودہ‘‘ لکھا گیا۔(مؤلف)