ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 426
انسان سمیع و بصیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح پر اگر تحصیل علوم کے لئے ترتیب کو مدِّنظر نہ رکھا جاوے تو سخت غلطی پیدا ہوتی ہے۔اور اس امر کو مدِّنظر نہ رکھنے کی وجہ سے آج مسئلہ تعلیم میں مشکلات بھی پیدا ہورہی ہیں۔پس علوم میں ایک ترتیب ہو۔برداشت کی قوت کا اندازہ علوم کی ترتیب کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ طالب علم کس قدر محنت برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے۔اس کے قویٰ، فہم وغیرہ کو دیکھنا چاہیے۔جو بات بچہ نہیں سمجھ سکتا اس کا ذکر مت کرو اور جس قدر محنت وہ آسانی کے ساتھ برداشت کرسکتا ہے۔ان امور کے لئے بھی مشورہ کی ضرورت ہے۔قرآن مجید(اٰل عمران :۱۵۹) اور (الشورٰی :۹)کی تعلیم دیتا ہے۔غرض انتخاب علوم اس کی ترتیب، حصول علم کے اسباب اور بچہ کی قوت برداشت وغیرہ پر پورا غوروفکر اور باہم مشورہ کرنا چاہیے۔(باقی پھر کبھی) (الحکم جلد ۲۰ نمبر ۲۰ مورخہ۲۸؍جون ۱۹۱۸ء صفحہ ۴تا۷) حضرت خلیفہ اوّلؓ کا ایک غیر مطبوعہ خط شیح عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر لاہور نے ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ میرا دفتر میرا کچھ مخالف ہے اس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کے جواب میں حضور نے مندرجہ ذیل خط لکھا۔شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میری مصیبت رفع ہوگئی۔(صاحبزادہ عبدالوہاب عمر) قادیان ۱۲؍ جولائی ۱۹۱۰ء السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ بہت استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ جب انسان کسی دروازہ پر بھروسہ کربیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ دروازہ بند کردیتا ہے۔کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بڑے بڑے تاجروں کی دوکان میں کبھی نقصان ہوجاتا ہے زمیندار کا خرمن جلتا ہے۔اسی طرح ایک حال سے دوسرے حال پر بدلاتا ہے یہاں تک کہ اللہ ہی پر بھروسہ ہوجاوے۔آپ ذرا