ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 425
اقسام العلوم پھر یہ معلوم کرنا چاہیے کہ علم کے کتنے قسم ہیں۔میں مختصراً بتاتا ہوں۔علم حفظ النفس، یہ کبھی بلاواسطہ ہوتا ہے اور کبھی بالواسطہ۔اصلاح النفس،ابقائے نفس ،علم العقائد، علم اوامر اللہ، علم نواہواللہ، علم حساب، ہندسہ، مساحت، علم الہوا، منطق، مبادی السنہ، طب، حفظ صحت، دواسازی، تربیت اطفال، ہدایۃ الموسم، علم نباتات، علم جمادات، حیوانات، جرثقیل، تعمیر، حرکت، سکون، برق، مقناطیس، کیمیا (کیمسٹری)،تجارت، زراعت، قیافہ، ہیئت، مناظر، مرایا، جغرافیہ، تاریخ، سیاست، قانون، علم تفریح جس میں مصوّری، شاعری، موسیقی (مع اپنی مختلف شاخوں کے)عروض وقافیہ و شعبدات شامل ہیں۔اقسام ہیں علوم کے جو آج کل بآسانی انسان حاصل کرسکتا ہے۔ایک بہت بڑی فرو گذاشت ایک بڑی غلطی ایک بڑی فروگذاشت جو مسئلہ تعلیم میں ہوتی چلی آئی ہے اور جس پر توجہ نہیں کی جاتی۔وہ یہ ہے کہ ہر مربی اور ہر باپ کے لئے یہ ضروری امر تھا کہ تعلیم شروع کرانے سے پہلے یہ غور کرلیا جاتا کہ کون سا علم بچہ کو سیکھنا چاہیے۔جب یہ فیصلہ ہوجاتا پھر اس علم کے سیکھنے کی ترکیب اور پھر ترتیب کہ کون سا علم مقدم ہے کون سا مؤخر ہے۔پھر یہ دریافت کرنا کہ کس علم کی اس کی طبیعت سے مناسبت ہے اور اس کے لئے کیا اسباب اور وسائل حاصل ہیں۔بڑے بڑے مشورے اور غوروفکر کی اس کے لئے ضرورت ہے مگر ان سوالوں پر آج کوئی غور نہیں کرتا۔میں نے اس سوال کو بھی قرآن کریم سے حل کیا ہے۔سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الرحمٰن :۸تا۱۰)وزن ضروری ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔(الاعراف :۹)۔الٰہی ترتیب اور اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی ایک ترتیب موجود ہے اور وہ ایسی ترتیب ہے کہ تمام امورمیں وہی مراتبِ ستّہ پائے جاتے ہیں۔جب تک وہ تکمیل نہیں ہوتی۔اور اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل میں اس مثال کو دکھایا ہے کہ پہلے نُطفہ پھر عَلَقَہ پھر مُضْغَہ وغیرہ مراتب سے گذرتا ہوا بالآخر