ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 427
بھی نہ گھبراویں۔اللہ تعالیٰ خالق و مالک ہے انشاء اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز آپ کو ضائع نہ کرے گا۔والسلام (دستخط)نور الدین ۱۲؍ جولائی ۱۹۱۰ء (الحکم جلد ۳۸ نمبر۱۴ مورخہ ۲۱ ؍اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۱) ملفوظات حضرت حکیم الامت (راوی منشی محمد عبداللہ صاحب بوتالوی) مکرم و محترم جناب حضرت میر قاسم علی صاحب زَادَ عِنَایَتُـہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔خاکسار نے اپریل ۱۹۱۲ء میں قریباً عرصہ دو ماہ تک حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کی خدمت میں حاضر رہ کر استفادہ حاصل کیا تھا۔اس عرصہ میں خاکسار کو خدا کے فضل سے یہ توفیق ملی کہ حضور کے درس قرآن میں بھی جو دن میں تین دفعہ دوپہر، بعد عصر، بعد مغرب ہوا کرتا تھا شامل ہوتا رہا۔اور بعض نکتے نقل کر لیا کرتا تھا۔علاوہ اس کے حضور کی مجلس میں جو ملفوظات کے موتی لٹتے رہتے تھے بقدر استطاعت ان کو بھی نوٹ کر کے سمیٹ لیتا رہا۔آج مجھے خیال آیاکہ بعض باتیں جو کسی نہ کسی رنگ میں دیگر اصحاب کو مفید ہوسکتی ہیں آپ کے اخبار کے ذریعہ سے احباب تک پہنچا دوں۔اور ان کے فائدے کو اپنی ذات تک ہی محدود نہ رکھوں۔وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ لِلصَّوَابِ۔(محمد عبداللہ) (۱)حضرت مسیح موعود ؑ کو طریق شرائط بیعت کی تفہیم ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو بوقت درس دوپہر آیت ( المائدۃ : ۱۰۲)کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایاکہ حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کو اللہ تعالیٰ نے الہام کیا کہ لوگوں سے بیعت لیں۔آپ بیعت کا طریق نہ جانتے تھے۔آپ نے توجہ کی کہ کس طرح بیعت لوں۔اللہ تعالیٰ کی