ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 362
(التوبۃ:۷۷) ترجمہ۔اللہ تعالیٰ کا وعدوں کے خلاف کرنے اور جھوٹ بولنے کے سبب ان کے دلوں میں نفاق پڑگیا اس دن تک کہ وہ اللہ کے حضور میں حاضر ہوں۔دوسری آیت۔(البقرۃ:۷،۸) اس کے لطیف معنے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بتائے ہیں۔ایک آدمی ایسا شریر ہوتا ہے اور گندا ہوتا ہے کہ جب اس کو اس کی بھلائی کے لیے کوئی بات کہتے ہیں تو معاً وہ انکار کر جاتا ہے۔اس کو اس خیرخواہی پر ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی اس واسطے اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ میں تم سے کسی بات کا خواہش مند نہیں۔اپنی تعظیم کے لیے تمہارے اٹھنے کا محتاج نہیں۔تمہارے سلام تک کا محتاج نہیں۔باوجود اس کے میں کسی کو کچھ کہتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں لیکن ایسے بھی ہیں کہ ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو نصیحت کی اس نے مجھ کو دو ورق کا خط لکھ کردیا۔خلاصہ کلام جو انسان کو دکھ پہنچتا ہے تو کسی گناہ کے ذریعہ سے اس کو پہنچتا ہے۔بے فائدہ بحثیں نہ کرو ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ ایک جگہ احمدیوں میں یہ بحث ہورہی تھی کہ فرشتے جسم رکھتے ہیں یا بے جسم ہیں اس پر حضرت خلیفۃ المسیح رنجیدہ خاطر ہوئے کہ ہماری جماعت کے لوگ کن نکمی بحثوں میں لگ جاتے ہیں۔کیا ان کے پاس دین دنیا کا کوئی مفید کام نہیں یا وہ سب کام انہوں نے ختم کرلیے ہیں۔فرمایا۔مِنْ حُسْنِ الْاِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ)۔انسان کے اسلام کی خوبی اس بات میں ہے کہ بے فائدہ باتوں کے پیچھے نہ پڑے۔اگر فرشتے جسم کے ہیں تو اس سے تم کو کیا مل جاوے گا اور اگر جسم کے نہیں تو تمہارا کیا نقصان