ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 363
ہوگا اور اگر یہ علم تم کو حاصل ہوگیا تو دین دنیا میں کون سی نیکی ہے جو اس کے ذریعہ سے تم کماؤ گے۔اگر کوئی فائدہ حاصل نہیں تو پھر قرآن شریف کی اس آیت پر کیوں عمل نہیں کرتے کہ (المؤمنون:۲تا۴)تحقیق بامراد اور کامیاب ہوئے وہ مؤمن جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں اور وہ جو بے فائدہ باتوں سے کنارے میں رہتے ہیں۔آج تک انسان اپنی بناوٹ کی حقیقت سے تو آگاہ نہیں ہوا پھر فرشتوں کی بناوٹ پر بحث کرنے سے کیا حاصل۔تو کارِزمین کے نکوساختی کہ باآسمان نیز پرداختی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ (الکہف:۵۲)آسمان زمین کے پیدا کرنے کے وقت میں نے ان لوگوں کو سامنے کھڑا نہیں کر رکھا تھا کہ یہ اس کو دیکھتے اور شاہد حاضر بنتے بلکہ یہ اپنی پیدائش کے وقت کے بھی گواہ نہیں۔ملائکہ کے متعلق شریعت میں لفظ جسم کا نہیں آیا پس ہم جسم کا لفظ نہ بولیں اور ان کی بناوٹ کی کیفیت کو خدا پر چھوڑیں۔اس سے زیادہ اس معاملہ میں گفتگو نامناسب ہے۔فضل درکار ہے فرمایا۔نیک اولاد بھی اللہ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔ایک امیر تھا۔میں اس کے پاس رہتا تھا۔اس نے مجھے کہا کہ بڑے بڑے دکھی، بیمار، آتشک کے مارے ہوئے میرے بیٹوں کو دکھایا کرو۔میں بڑے بڑے بدکار، آتشک کے مارے ہوئے، جن کے عضو تناسل گرگئے تھے ان کو دکھایا کرتا تھا۔باپ کی غرض یہ تھی کہ یہ بدیوں سے بچ جاویں لیکن اس کے بیٹے بڑے بدکار نکلے جس سے ان کے باپ کا دل خوش نہ ہوا۔افسوس ہوتا ہے۔قارون فرمایا۔قارون کو الہام بھی ہوتے تھے کشف ،بھی خواب بھی آتے تھے جیسا کہ آج کل بھی بعض لوگوں کو ایسے خیال آتے ہیں لیکن آخرکار جب قارون نے حضرت موسیٰ سے مباہلہ کیا تو اس