ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 361

بعثت انبیاء فرمایا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم و غریب نوازی سے ہمیشہ انسان کی فطرت کو جگانے اور سیدھا کرنے کے لیے اپنے بندے بھیجے۔ہرایک جگہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے آتے رہے، نیکیاں سکھاتے رہے اور نیک نمونہ بنتے رہے۔ان میں سے ایک حضرت موسیٰ بھی تھے۔میری سمجھ میں جو نبی کہتے ہیں اس کی فطرت گواہ ہے، عقل گواہ ہے، وجدان صحیحہ، نورمعرفت، نورایمان، تجربہ، مشاہدہ، اگلی کتابوں میں تعلیم، تصدیق کرتے ہیں۔اتنی باتوں کے بعد جو نہ مانے تو بڑا بے وقوف ہے۔نصیحت جو لوگ بزرگوں کو برا کہتے ہیں وہ ضرور کسی بدی میں گرفتار ہوتے ہیں۔جس کسی کو لوگ اچھا کہتے ہوں تم کبھی اس کو برا نہ کہو۔مصائب اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں فرمایا۔آدمی کو جب کبھی بیماری آتی ہے یا کوئی اور تکلیف یا مصیبت وارد ہوتی ہے تو اس کے متعلق قرآن کریم نے یہ قاعدہ بتایا ہے کہ (الشورٰی:۳۱) جو مصیبت آئی ان کے اپنے ہی کرتوتوں سے آئی۔ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ مجھ کو الہام ہوا تھا۔لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَااکْتَسَبَتْ پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں۔اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔الخ۔یہ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔پھر تکلیفیں یا مال کے ذریعہ ہوتی ہیں یا جان پر پڑتی ہیں یا بیوی بچوں کے ذریعہ آتی ہیں یا آبرو خراب ہوتی ہے یا رشتہ داروں کے ذریعہ سے یا ملک پر۔اور اس کے علاوہ ایک اور زبردست مصیبت ہے جو سب سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انسان کا بُعد ہوجاتا ہے۔اس کے متعلق دو آیتیں میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔