ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 332
رمضان میں درس قرآن کا اجراء ۳؍ اگست کو ہلال نظر نہیں آیااس لئے ۵؍ اگست سے روزہ شروع ہوگا۔حضور نے اعلان فرمایا ہے کہ میں بعد نماز فجر ایک پارہ روز درس قرآن مجید دیا کروں گا۔بیرونی قلیل الفرصت احباب کے لئے اچھا موقع ہے۔بخاری کا درس نہیں ہوسکے گا۔ہم کتاب الشہادت تک پہنچے ہیں۔شادی کے موقع پر بیٹے اور بہو کے لئے تحائف حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔ہم نے تو اپنی بہو اور بیٹے کو دو قرآن مجید ، دو صحیح البخاری اور ان کے لئے رحل اور حزب المقبول ، فتوح الغیب اور براہین احمدیہ اور الماری اور تہجد کے لئے لالٹین اور لوٹادیئے ہیں اور بس۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۸ مورخہ ۶؍ اگست ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) سورہ عنکبوت کا پہلا رکوع ۲۹؍ جولائی کی شام کو درس قرآن شریف کے شروع کرنے سے پہلے فرمایا کہ سبق تو شروع کرتا ہوں مگر دل گھبراتا ہے کچھ اس وجہ سے کہ رات سے بیمار ہوں اور کچھ اس رکوع (سورہ عنکبوت کا پہلا رکوع)کے الفاظ ہی گھبرادینے والے ہیں۔خدا حافظ مدرسہ کے بچوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔بہت لوگ تم میں سے کل جائیں گے (تعطیلات موسم گرما)۔جانا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اور رہنا بھی حکمت ہے۔ہمیں کیا خبر ہے کہ تم واپس آؤ گے تو ہم جیتے ہوں گے یا نہ ہوں گے۔جو درس قرآن شریف کا گزرتا ہے میں اسی کو غنیمت جانتا ہوں اور اللہ کا فضل مانگتا ہوں۔میں تم سب کو حوالہ بخداکرتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ دعائیں بہت کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق نہ چھوڑو۔استغفار بہت کرو۔اللہ تمہارے ساتھ ہو۔خدا کے عذاب سے ڈرو فرمایا۔جب کوئی سلطنت یا قوم، گھر یا انسان ہلاک ہونے کے