ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 331
سنایا تو فرمایا کہ ایک دفعہ کسی صاحب کو بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب کہ مجھ سے مشورہ کے لیے پوچھا تو میں نے کہا کہ پہلے تم خوب خوب توبہ کرلو۔جب انہوں نے توبہ کرلی تو اتفاقاً وہ ظالم حاکم ان کی پیشی سے پہلے ہی چلاگیا۔معیار صداقت فرمایا۔معیار صداقت فضل الٰہی ہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔جس پر فضل ہوا حق کو پالیا۔اگر حقیقت میں کوئی معیار ظاہراً ہوتا تو پھر سب ہی حق کو شناخت کرلیتے۔پل صراط سے بچائو فرمایا۔پل صراط سے بچنے کے لیے لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔تحصیل علم ایک امیر کے لڑکے کا واقعہ بیان فرمایا جو آپ اور وہ ایک مولوی کے پاس پڑھا کرتے تھے کہ وہ لڑکا ایک ایک صفحہ صرف میر کا ۶ بجے صبح سے شام کے ۶ بجے تک بڑے غور و فکر اور تحقیق سے پڑھا کرتا۔آپ نے تو ایک ہی روز میں تنگ آکر چھوڑ دیا اور استاد صاحب سے کہا کہ اس طرح تو تحصیل کے لیے عمرنوح ؑچاہئے؟ مولوی صاحب نے بھی کہا کہ واقعی میرا بھی دم ناک میں ہے لڑکے کی طبیعت میں شک بہت ہے ذری ذری بات پر بیسیوںسوالات کے جوابات مجھے دینے پڑتے ہیں میں بھی قریب میں جواب دینے والا ہوں۔فرمایا کہ میں جب کہ عرب سے سب علم تحصیل کر کے آیا تو وہ فصول اکبری پڑھ رہے تھے۔ایک روز میرے پاس آئے اور کہا کہ میں پڑھنے آیا ہوں لیکن پہلے میںکچھ دن آپ کو آزمالوں گا۔پس ایک سال ایسا ہی گزرا۔پھر ایک روز کہنے لگے کہ میں نے دعا کی ہے کہ آپ کو لڑکاہو جب کہ آپ اپنے لڑکے کو پڑھائیں گے تو میں بھی اس کے ساتھ پڑھوں گا۔بالآخر چند دنوں بعد ان کا انتقال ہوگیا۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۳ مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۳)