ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 333
قریب ہوتے ہیں توان میں سچائیوں پر عمل درآمد کم ہوتا ہے یہ ہلاکت کی نشانی ہے۔بغداد کا آخری بادشاہ جب سلطنت تباہ ہوئی کبھی سال میں ایک دفعہ ہوادار میں بیٹھ کر اپنے محل سے باہر نکلا کرتا تھا اور وہ بھی اپنی بی بی کے مجبور کرنے پر ورنہ اسی بی بی کی گود میں پڑا رہتا تھا جس کا نام نسیم السحر رکھا ہوا تھا اور ایک باغ بنایا ہوا تھا جس کے پتے اور پھول سب موتیوں اور جواہرات کے تھے۔تاتاری لوگوں نے اس باغ کو لوٹ لیا سب زر و جواہر اتارلیا۔نسیم السحر بھی ان کے قابو میں آگئی اس کے پاس جو بیش قیمت موتی تھے وہ لینے لگے اس نے کچھ مزاحمت کی تو اسے وہیں قتل کرکے رستے میں پھینک دیا۔ایک شخص لکھتا ہے کہ میں نے دیکھا کوچے میں اس کی لاش پڑی اور کتا لہو چاٹ رہا تھا۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ (اٰل عمران :۹۸) ہے اس کا کسی کے ساتھ رشتہ نہیں۔وہ کسی خاندان، ملک یا آدمی کو بڑا بناتا ہے جب وہ بدیوں پر اتر آتے ہیں تو ایک آن میں ہلاک کردیتا ہے۔بغداد میں چودہ لاکھ اندر اور چا ر لاکھ باہر اٹھارہ لاکھ آدمی قتل کیا گیا تھا اور پانچ لاکھ کتاب کسی نے اپنے مطلب کے مطابق منتخب کرلی تھی باقی سب دریا برد کردی گئی تھیں۔وہ کتابیں آج کل روس کے ایک کتب خانہ میں پڑی ہیں، بڑی مشکل کتابیں اسی جگہ صحیح کی جاتی ہیں۔اب اس زمانہ میں مسلمانوں پر مصیبت یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے واقف نہیں۔انہیں علم نہیں کہ بدی کیا ہے اور کن باتوں میں خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے۔اکثروں کو قرآن شریف کے پڑھنے کا شوق ہی نہیں۔اگر شوق ہو تو فرصت نہیں۔زمیندار، تاجر، ملازم سب رات دن اپنے کاموں میں ایسے مصروف ہیں کہ قرآن شریف کے واسطے کوئی وقت نہیں۔قرآن خوانی کی قدر کرو ایک شخص میرے پاس آئے۔قرآن شریف کے پڑھنے کا بڑا شوق ظاہر کیا۔مجھے کہا کہ آپ کوئی انتظام کردیں کوئی استاد مقرر ہو جو مجھے قرآن شریف پڑھا دیا کرے اس کے ساتھ وقت مقرر ہو۔میں نے ایک استاد مقرر کردیا وقت بھی مقرر ہوا۔وہ استاد جب ان کے مکان پر گیا تو خفا ہونے لگے کہ یہ کیسے ملّاں لوگ ہیں نہ طریق ادب سے واقف ہیں نہ ہماری مصروفیتوں سے آگاہ ہیں آگئے کہ سبق پڑھ لو دیکھتے نہیں کہ ہم کیسے ضروری کام میں مصروف ہیں۔باہر بیٹھ جاؤ