ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 330 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 330

خواہشوں کو پورا کر اور اسے دینی دنیوی حسنات سے مالا مال کردے کہ تو ہی خالق ہے اور تو ہی مالک ہے اور سب کچھ تیرے ہاتھ میں ہے۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۲ مؤرخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۲) دیدار رسول کا شوق ایک شخص نے عرض کی کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بہت خواہش مند ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔آپ درود شریف بہت پڑھا کریں۔توکل فرمایاکہ حضرت شاہ غلام علی صاحب جب کہ حضرت جانِ جان رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہوئے تو اس گڑبڑ میں تین روز گزر گئے لیکن کسی نے ان کو کھانا نہ دیا۔وہ بھی انتظار میں بھوکے رہے لیکن نہ مانگا۔تیسرے روز رات کو جب کہ سب سو رہے تھے تو ایک شخص نے پکارا کہ (باقر خانی لو) آپ نے اس کو لے کر بھوک کے مطابق کھا لیا پھر بھی وہ بہت بچ رہی۔خیال ہوا کہ بقیہ رکھ چھوڑیں لیکن معاً دل میں گزرا کہ خدا مالک و رزاق ہے پھر آئندہ کی اس قدر کیوں فکر۔لہٰذا اسے لے کر مسجد کے باہر نکلے،دیکھا کہ ایک فقیر سوال کررہا ہے آپ نے بلا تأمل اسے دے دیا۔جب سورہے تو الہام ہوا کہ ہم نے تمہارا امتحان کیا تھا ایک تو بھوکے رکھ کر دوسرے روٹی دے کر۔لیکن تم پاس ہوگئے اب ہم مرنے تک تمہیں بھوکا نہ رکھیں گے۔جب صبح ہوئی تو ناگہاں سب کو خیال ہوا کہ ہم نے تین روز سے حضرت کو کھاتے نہیں دیکھا۔لنگرخانہ سے آخر کسی نے آپ کو کھانا کھلایا بھی ہے یا نہیں۔ہوتے ہوتے پھر آپ سے ہی سبھوں نے دریافت کیا اور معلوم ہونے پر سب نے معذرت خواہی کی لیکن جیسے جیسے کہ لوگ آپ سے اپنی غفلت کی معافی چاہتے تو آپ ویسے ہی بہت ہنستے جاتے تھے۔فرمایا۔یہ خدائی تصرفات ہوتے ہیں۔(اعلیٰ حضرت خلیفۃ المسیح کو بھی اس سلسلہ میں بیعت تھی۔) کتب حدیث کسی کا سوال پیش ہوا کہ حدیث میں کون سی کتابیں پیش نظر رہیں؟ فرمایا۔مؤطا، عمدۃ الاحکام ہمیشہ زیرمطالعہ رہیں۔ظالم سے کیونکر بچ سکتے ہیں ایک صاحب نے اپنا مقدمہ اور اس کی پریشانی اور پھر حاکم کا ظلم