ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 329 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 329

اللہ تعالیٰ ہی کے حضور میں ہی عرض کروں گا اسی پر سب میرا بھروسہ ہے۔بعض شریر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خود ایک بدی کرتے ہیں یا آپس میں لڑتے ہیں پھر بڑوں کو اور افسروں کو اس لڑائی میں شامل کرنے کے واسطے کوشش کرتے ہیں اور شکایتوں کا سلسلہ کھولتے ہیں اور اس طرح زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔تاریخ کے صفحات الٹا کر دیکھو اختلاف ڈالنے والوں نے کس قدر نقصان دنیا کو پہنچایا ہے۔سنی شیعہ کا ابتدائی جھگڑا کوئی بڑی بات نہ تھی مگر تفرقہ کہاں سے کہاں تک پہنچا۔مقلد اور غیرمقلد کا فرق کوئی بڑا فرق نہ تھا مگر بعد میں کس قدر خوفناک شکل اس نے اختیار کی۔میں تعجب کرتا ہوں کہ لوگ چھوٹی سی بات پر جھگڑ پڑتے ہیں پھر انجام بہت برا ہوتا ہے۔(البقرۃ:۱۵۴) کا لطیفہ لوگ بھول گئے ہیں۔ایک گالی کے بدلے میں سو گالی دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ایسے لوگ خود ایک دوزخ میں پڑئے ہوئے ہیں۔اور اس سے بڑھ کر کوئی بدکار نہیں جو لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالے، چالاکیوں سے کام لے اور پھر اپنے آپ کو بری ٹھہرائے۔تمہاری محبت کا حریص نہیں فرمایا۔عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ساتھیوں کو کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو کچھ فرائض اور سنن تمہارے سامنے بیان کروں گا اور اگر میں مرگیا تو یاد رکھو کہ میں تمہاری محبت کے لیے حریص نہیں ہوں۔یہی حال تم میرا سمجھو۔میں خدا کی قدرت سے زندہ ہوں اور تمہیں رات دن نصیحت کرتا ہوں پر تمہارے درمیان رہنے کی حرص نہیں رکھتا۔ایسا ہی ذکریا رازی ایک ہشیار طبیب تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ نابینا ہوگئے لوگوں نے کہا کہ آپ کی آنکھ درست ہونے کے لائق ہے آپ چاہیں تو ہم بنادیں؟ کہنے لگے مجھے اب تمہارے دیکھنے کی خواہش نہیں اس واسطے آنکھ بنوانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔حضور کی دردمندانہ دعا اے ہمارے ربّ قدیم سب دل تیرے ہاتھ میں ہیں تیری مدد کے سوائے ہمیںکوئی توفیق حاصل نہیں ہوسکتی تو ہم پر رحم فرما اور اس نور سے جو تو نے ہمارے درمیان اپنے فضل سے نازل کیا رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کی ہمت اور قوت عطا کر۔تو ہی ہے جو دیتا ہے اور تیرے سوائے کوئی نہیں جس سے ہم مانگیں اور پائیں۔تو اس نورالدین کی دعاؤں کو قبول کر اس کی