ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 302
صفت رحمانی سے ہوا۔قرآن کریم جیسی کتاب کا ملنا کسی انسان کے فکر و وہم میں آسکتا تھا؟ جب میں اس قرآن کو پڑھتا ہوں تو مجھ کو حیرت ہوتی ہے اب فضل خدا کا ہم پر ہوا ہے اور ایسی کتاب ہم کو عطا ہوئی ہے کہ جو دنیا میں بے نظیر ہے۔پھر اس کتاب کی بابت حضرت نبی کریم ﷺ کو کس قدر خوشی ہوئی ہوگی۔مجھے بعض وقت ایک ہی آیت پر غور کرنے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر صرف یہی ایک آیت ہوتی تو دنیا بھر کے کاموں کے واسطے کافی تھی۔(نور) (ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر ۵ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۷ تا ۱۰) گھر نہیں مسجد لے جاؤ حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت بفضلہ تعالیٰ اچھی ہے اور سب درس روزانہ ہوتے ہیں۔یکم اپریل ۱۹۱۳ء کی شام کو مسجد اقصیٰ میں درس دیتے ہوئے اچانک حضرت خلیفۃ المسیح کو ضعف جسمی ہوگیا۔بیٹھ گئے، پھر لیٹ گئے، ہاتھ پاؤں سرد ہوگئے، چلنے کی قوت نہ رہی، چارپائی پر اٹھا کر لائے مگر راستہ میں جب مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایا۔مجھے گھر نہ لے جاؤ مسجد میں لے جاؤ۔بمشکل تمام مسجد کی چھت پر پہنچ کر نماز مغرب پڑھی۔کچھ دوائیں مقوی استعمال کی گئیں باوجود اس تکلیف کے بعد نماز مغرب کا درس ایک رکوع دیا پھر چارپائی پر اٹھا کر گھر تک لائے رات کو افاقہ ہوا صبح کو پھر درس دیا اور بیماروں کو دیکھا۔ڈاکٹر صاحب کی رائے ہے کہ یکم اپریل سے اوّل شب میں کثرت پیشاپ کے سبب یہ دورہ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ ہمارے مکرم محسن مرشد کو دیر تک سلامتی و عافیت سے رکھے۔آمین۔اب بالکل آرام ہے۔فالحمدللہ۔(ماخوذ از اخبار قادیان۔البدر جلد۱۳ نمبر۶مؤرخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ۱۰)