ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 301

تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرتی ہے کیا ہم دے سکتے ہیں؟ آخر وہی ہوا جو خواب میں دیکھاتھا۔معلوم ہوا کہ عرب کا ماٹو چاند ہے۔تعلیم قرآن عملی طور پر آسان ہے فرمایا۔قرآن کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس کو انسان کر نہ سکے۔دھوکے باز لوگوں نے یہ کام کیا ہے کہ خود بخود کوئی کام ضروری خیال کر لیا کرتے ہیں کہ یہ کام ضروری ہے اور یہ مقدم ہے اور یہ ہونا چاہیے۔پھران دھندوں بدکاریوں میں پڑ کر کہتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں۔حتیٰ کہ یہ لوگ ناملائم حرکات سے برباد ہوجاتے ہیں بدنام ہوجاتے ہیں اور آخر کار اولاد سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔دیکھو میں بھی ایک آدمی ہوں اور مسلمان ہوں۔بچہ بھی تھا۔جوان بھی تھا۔قویٰ بھی مضبوط تھے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیئے ہیں وہ سب انسان کرسکتا ہے۔(البقرۃ : ۲۸۷) اللہ تعالیٰ کسی کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہیںدیتا۔خدا تعالیٰ نے اپنے اسماء اور محامد کے بیان میں وہی لفظ استعمال کئے ہیں جو انسان کے فہم کے خلاف نہ ہوں انسان قرآن کو اپنا امام بنالیوے تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں تنہا اور بے شغل بیٹھنا مفید نہیں فرمایا۔جن کو بہت خیال اٹھتے ہیں وہ تنہا نہ بیٹھا کریں تنہائی میں نقصان ہوتا ہے ایسے بہت سے گناہ ہوتے ہیںجن کی طرف تنہائی میں تحریک ہوتی ہے۔بہتوں کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ وہ تنہا اور بے شغل نہ بیٹھا کریں۔اگر چہ صوفی کہتے ہیں کہ تنہائی اچھی ہے مگر یہ بیماری ہے مجھے ان باتوں کا بہت علم ہے۔ایک مرتبہ مجھے یہ مرض بڑھتا ہوا معلوم ہوا میں نے اپنا شہر چھوڑدیا۔پھر وطن چھوڑدیا۔پھر پنجاب چھوڑدیا۔پھر اپنا ملک چھوڑدیا۔جوان آدمی کو یہ صورت چاہیے کہ دن بھر لوگوں کے ساتھ رہے رات کو بیوی کے پاس رہے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اور درود اور استغفار بکثرت پڑھتا رہے۔نماز۔نزول قرآن صفت رحمانی سے ہوا فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور فضل اور مہربانیاں اس قسم کیہوتی ہیں کہ بلا مبادلہ ہم کو عطاہوتی ہیں۔ (الرحمٰن:۲،۳) نزول قرآنی