ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 291 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 291

واقعات بیان فرمودہ متعلقہ سوانح عمری خود والدہ کی نصیحت فرمایا۔ایک دفعہ میری ماں نے مجھے علیحدہ بلایا اور کہا کہ میں تجھے ایک بھلائی کی بات کہوں؟ میں نے کہا وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ تیرا بھائی جو طب کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ نورالدین کو طب کرنا نہیں آتا اور اس کو شربت شیرہ بنانا بھی نہیں آتا وہ میرے پاس آیا کرے اور سیکھا کرے۔میں نے کہا کہ یہ پنساریوں کا کام ہے۔اس نے کہا تم اس کام کو سیکھنا نہیں چاہتے؟ میں نے کہا جب پنساری بننے لگوں گا تو سیکھ لوں گا۔شادی کا ایک واقعہ فرمایا۔میری شادی تھی مفتیوں کے محلہ میں وہاں جراح رہتے تھے میرا بیاہ تھا وہ آتے رہتے تھے۔ایک نے مجھ سے کچھ ہنسی کی۔میں نے کہا کہ تم بڑے جاہل ہو۔اس نے کہا کہ کیا تو ہمارا محتاج نہیں ہے؟ کبھی خون نہ نکلوانا ہوگا؟ میں نے کہا کہ میں نکلواؤں گا ہی نہ بلکہ یہ تمہاراکام ہی چھڑادوں گا۔میاں شیخ احمد صاحب نے مجھ سے کہا کہ یہ لوگ آپ سے ناراض ہوجائیں گے اور طب کے کام میں مشکل پڑے گی۔ایک دفعہ ایک کرپا نام پنساری تھا اس کو ماشرا ہوجاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب تک اس کا تین سیر خون نہ نکلے آرام ہوہی نہیں سکتا۔چنانچہ ایک دفعہ اس کو سخت ماشرا ہوگیا۔میں نے اس کا دوسری طرح علاج شروع کیا اور ایسا انتظام کیا کہ جس سے اس کو غش ہوگیا۔غش کے ساتھ ہی سب ورم وغیرہ دور ہوگیا۔شیخ احمد صاحب نے مجھے کہا کہ یہ مرجائے گا مگر بجائے اس کے اس کو بالکل آرام ہوگیا اور پھر کبھی نہ ہوا۔جس کو وہ حجام لوگ بھی مان گئے۔فقط (البدر جلد۱۳ نمبر۳مؤرخہ ۲۰؍ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ۱۱،۱۲) مخلص ہیں کسی تحریک پر حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔مولوی فضل دین صاحب مختار گوجرانوالہ اب تک مخلص آدمی ہیں ان کی نسبت ہمارے دوست کوئی بدظنی نہ پھیلائیں۔