ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 290
(الزمر:۵۴) جب میں نے یہ آیت دیکھی تو اس سے میرے دل میں اتنا جوش کم ہوگیا کہ مسجدمیں داخل ہوسکا۔منبر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے درمیان نماز شروع کردی۔منبر اور حضرت صلعم کے گھر کے درمیان کاٹکڑہ بہشتی ہے میں نے دعا مانگی کہ الٰہی اگر یہ گناہ ترک جماعت کا معاف کردیا جائے تو مجھے دلیل بتائی جائے۔ظہر کی نماز تھی رکوع میں ہی مجھے یہ آیت بتائی گئی (حٰمٓ السّجدۃ :۳۲) اور یہ سمجھایا گیا کہ تمہارا گناہ بخشا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود کی تصویر کے متعلق فرمایا کہ دنیا میں دعوے تین قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ایک مجنون لوگ کرتے ہیں۔دوسرے دوکاندار لوگ بھی کرتے ہیں۔مثلاً ایک فقیر گدی والا ہے چوری ہورہی ہے دو غلام موجود ہیں کوئی کسی کو بات نہیں کرنے دیتے۔تیسرے راستباز لوگ ہوتے ہیں۔یورپ میں جب حضرت کی دعوت پہنچی تو ان لوگوں کے خط آئے کہ ہمیں تصویر دکھائی جائے کہ وہ پاگل تو نہیں ہے۔شکل سے معلوم ہوسکتا ہے۔یہاں ایک پڑھی لکھی عورت ہے جو پاگل ہے۔اس کو ہر ایک معلوم کرلیتا ہے۔حضرت صاحب اب یورپ میں ہر ایک کے گھر کب پہنچ سکتے ہیں اس ضرورت کے واسطے تصویر بنائی گئی۔پوچھا گیا کہ اگر پوشیدہ گھر میں رکھ لیں تو کیا ہرج ہے؟ فرمایا کہ ہمارا کوئی کام مخفی نہیں ہے سب کچھ ظاہر ہے۔ہمارے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ہم کیوں رکھیں۔رعب فرمایا۔قرآن میں لکھا ہے کہ ہر ایک اپنی قوم میں واعظ ہو اپنی قوم کی ہدایت کے واسطے مشکل پڑتی ہے کیونکہ وہ رعب نہیں مانتے۔رعب پیدا کرنے کے واسطے ایک بات چاہیے۔میں اور یہ لوگ ایک پیر کے پیرو ہیں مگر اب میرا ان پر رعب کیوں ہے؟ میر صاحب ان کے باپ کے برابر بیٹھے ہیں مگر میرا رعب خوب مانتے ہیں۔حکیم فضل الدین صاحب (مرحوم) جس قدر مجھ سے ڈرتے تھے اتنا اور کسی سے نہ ڈرتے تھے۔بھیرہ کے لوگ سب میرا رعب مانتے ہیں۔