ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 279
کے گواہ ہوتے ہیں خود محمد رسول اللہ اس کا نمونہ بنتے ہیں۔زمانہ کو گالی مت دو فرمایا۔ایک ہی بات کل زمانہ میں چلتی ہے اس لیے حدیث میں آیا ہے لَا تَسُبُّوالزَّمَانَۃَ۔زمانہ کو گالی مت دو۔فارسی لٹریچر میں زمانہ کو بڑی گالیاں دی ہیں۔شعراء لوگ گردش روزگار، گردش روزگار کہہ کر زمانہ کی بڑی شکایت کرتے اور اس کو گالیاں دیتے ہیں۔زمانہ ایک آنی چیز ہے۔جو ایک آن میں فنا ہونے والی چیز ہو تو ایسی کمزور شے کو گالیاں دینا کیا معنی؟ میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ زمانہ کو ہرگز گالی نہ دیں۔فرمایا۔ایک دفعہ لاہور میں دیانند آیا۔ایک رتن چند داڑھی والاتھا اس کی کوٹھی پر ٹھہرا۔میں بھی وہاں گیا۔اس نے کہا کہ زمانہ قدیم ہے۔میںنے کہا زمانہ چیز کیا ہے جس کو تم قدیم کہتے ہو؟ اور وہ ہے کیا؟ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ زمانہ کیاہے۔میں نے کہا کہ زمانہ ہمارے مقدار فعل کا نام ہے اور فعل فاعل پر موقوف ہے اور وہ دو درجہ نیچے ہے وہ ایک آنی چیز ہے۔جب زید بولتے ہیں تو ابھی ی پیدا بھی ہوتا کہ ز کا زمانہ موقوف ہوجاتا ہے پھر د بھی نہیں بولی جاتی کہ ی کا زمانہ فنا ہوجاتا ہے۔منطق فرمایا۔ایک ہمارے دوست نے کہا کہ آج کل علماء میں منطق کا بڑا رواج ہے۔میں نے کہا کہ منطق تو ایسی چیز نہیں کہ جس کی علماء کو اشد ضرورت ہو۔ایک ذہین آدمی منطق کا محتاج نہیں۔ایک رخصت ہونے والے کو نصیحت حضرت صاحب نے ایک لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے ایک شخص کو جو اس لڑکی کو لے جانے والا تھا فرمایا کہ اس کو تین شرطوں پر لے جاؤ۔اوّل یہ کہ وہ پانچ وقت نماز پڑھے۔دوسرے جھوٹ بولنے کی عادت کو کم کرے اور گُرگابی اور جرابیں اس کو مت پہناؤ کیونکہ کنواری لڑکیوں کے لیے آج کل یہ باتیں بہت مضر ثابت ہوئی ہیں۔