ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 280
اسنا دکشائش رزق کا ذریعہ نہیں ایک شخص نے اپنے دو لڑکوں کو پیش کرکے کہا کہ حضور یہ غلام زادے کالج میں پڑھتے ہیں ان کے لیے دعا فرمائیے کہ خدا ان کو جلد کامیاب کرے۔آپ نے فرمایا کہ اگر ایم۔اے، بی۔اے ہونے سے اصل خوشی حاصل ہوسکتی ہے تو امریکہ اور یورپ میں بہت سے پاس ہوتے ہیں۔حقیقت میں یہ اصل ذریعہ کشائش رزق کا نہیں۔میں نے بھی نارمل پاس کیا تھا۔میں ایک جگہ ہیڈ ماسٹر تھا وہاں پر انسپکٹر مدارس آگئے میں اس وقت کھانا کھا رہا تھا۔میں نے ان کو کہا کہ آپ بھی آجائیں۔تو انہوں نے بجائے اس کے کہ میرے ساتھ کھانا کھاتے مجھے فرمایا کہ کیاآپ نے مجھے پہچانا نہیں میں انسپکٹر مدارس ہوں اور میرا نام خدابخش ہے۔میں نے کہا اچھا آپ بہت ہی نیک آدمی ہیں مدرّسوں کے ہاں کھانا نہیں کھاتے تو بس پھر تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔یہ کہہ کر میں بڑے مزے سے اپنی جگہ پر بیٹھا رہا اور وہ بیچارہ اپنا گھوڑا خود ہی پکڑے ہوئے اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ شاید اب بھی یہ کسی لڑکے کو میرا گھوڑا پکڑنے کے لیے بھیجے۔جب میں نے کوئی لڑکا نہ بھیجا تو اس نے خود مجھ سے کہا کہ کسی لڑکے کو تو بھیج دیجئے جو میرا گھوڑا تھام لے۔میں نے کہا کہ جناب آپ مدرسوں کے گھر کا کھانا تو کھاتے ہی نہیں کیونکہ آپ اس کو رشوت سمجھتے ہیں تو پھر ہم لڑکے کو گھوڑا پکڑنے کے لیے کیسے کہہ دیں کیونکہ وہ تو یہاں صرف پڑھنے ہی آتے ہیں گھوڑے تھامنے کے لیے تو نہیں آتے۔پھر اگر کسی لڑکے کو گھوڑا تھامنے کے لیے کہہ دیا جائے تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ اس کو کہیں باندھ بھی دو اور گھاس بھی ڈالا جائے تو پھر جب آپ مدرسوں کے کھانے کو رشوت سمجھتے ہیں تو ہم آپ کے گھوڑے کو گھاس کیسے دیں۔اس کاگھوڑا بڑا شور کرتا تھا اتنی دیر میں اس کے ملازم بھی آگئے انہوں نے گھوڑے کو باندھا اور جلدی ہی روٹی وغیرہ تیار کرلی۔اس نے کہا کہ میں امتحان لوں گا۔میں لڑکوں کو امتحان دینے کے لیے تیار کرکے علیحدہ جا بیٹھا وہ خود ہی امتحان لیتا رہا۔بعد میں مجھے کہنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ بڑے لائق ہیں اور بڑی لیاقت سے آپ نے نارمل وغیرہ پاس کرکے بہت عمدہ اسناد حاصل کی ہیں معلوم ہوتا