ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 241

جواب دیں نہ یہ ہمارے وقت کا ہے اور نہ ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں۔پھر میں نے ایک اور سوال کیا تو کہا کہ اس میں اس سے بھی بڑا جھگڑا ہے اور کہا کہ اچھا یہ سوال نہیں کوئی اور سوال کرو۔جب تیسرا سوال کیا تو صاف کہہ دیا کہ ہمیں اس کا بھی جواب نہیں آتا۔بغیر استقلال ہر کام لغو ہے پھر سراج الدین صاحب کے صاحبزادوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ جو پڑھو مستقل ہوکر، جو کام کرو مستقل ہوکر، تجارت کرو تو مستقل ہوکر۔بغیر استقلال کے ہرکام لغو ہے۔بیماری کا سبب درس کو تشریف لے جاتے وقت احمد نور صاحب کابلی سے فرمایا کہ تمہارے کنبہ میں جو اکثر آدمی بیمار ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ اس میں گھاس پھوس اور چھوٹے چھوٹے درخت بہت ہیں۔گھاس میں مچھر بہت ہوں گے جو ان لوگوں کو کاٹتے ہیں اور مچھروں سے بخار بہت پھیلتا ہے اس لیے چھوٹے چھوٹے تمام درخت اپنے مکان میں سے اکھاڑ کر پھینک دو اور ان کی بجائے یوکلپٹس کے درخت لگا لو اور چونکہ تالاب تمہارے مکان کے نزدیک ہے جو وہ ایک بخار کا سبب ہے اس لیے تالاب کی طرف کی دیوار کو اور بلند کردو۔۲؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء ۲؍اکتوبرکی صبح کو حضور حکیم محمد عمر صاحب کے مکان پر کسی مریض کو ملاحظہ فرمانے کے لیے تشریف لے گئے اور وہاں سے مکان پر تشریف لاکر فرمایا کہ میں ابھی باہر آتا ہوںمگر بہت تھک گیا ہوں۔یہ فرماکر اندر تشریف لے گئے۔قرآنی دعائیں ایک گمنام خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا۔کسی نے لکھا کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔نَصْرٌمِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ۔قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔یہ دعا آپ پڑھیں دوسروں کو پڑھنے کے لیے کہیں۔