ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 240
سرخ ہوجاتی تھی اور غنودگی سی طاری ہوجاتی تھی، آپ کی وہ حالت ہوگئی۔پھر آپ نے بلند آواز سے فرمایا کہ اس وقت یہاں اس مجلس میں تین آدمی آئے ہیں ایک نے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ پائی اور وہ اسی قابل تھا۔دوسرے شخص نے جانے سے شرم کی اور شرم کی وجہ سے یہیں بیٹھ گیا۔خدا نے بھی اس کے گناہوں کے حساب سے شرم کی اور اس کو معاف کردیا مگر تیسرے نے منہ پھیرا اور یہاں بیٹھنے کو فضول سمجھ کر چلا گیا خدا نے بھی اس سے منہ پھیرلیا۔(ماخوذ از بدر منور۔البدر جلد۱۲ نمبر۱۶ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳،۴) مؤرخ حکیم سراج الدین صاحب کے صاحبزادے دہلی سے تشریف لائے۔خلیفہ رشیدالدین صاحب نے سوال کیاکہ کیا ابن عبدالحکیم کوئی مؤرخ ہیں؟ فرمایا۔ایک اور بڑے مؤرخ کو میں جانتا ہوں جو ادیب بھی ہیں اور جن کا نام احمد ابوالفضل بن ابی طاہر طیفوری ہے۔نکاح کی خواہشمند عورتیں درس کو تشریف لے جاتے ہوئے فرمایا کہ لنڈن میں تین لاکھ عورتیں بغیر نکاح کے نکاح کی خواہش مند بیٹھی ہیں۔علم حدیث مولوی سراج الدین صاحب کے صاحبزادے سے فرمایا کہ اگر میں تم سے کسی حدیث کی نسبت کچھ دریافت کروں تو یقینا تم جواب نہ دے سکو گے کیونکہ مولوی لوگ اچھے تو پڑھاتے ہی نہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور بے شک! پھر حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا تم احادیث پڑھتے ہوئے مشکل حدیثوں کا خوب مطلب دریافت کرسکتے تھے۔عرض کی کہ نہیں۔آپ فرمانے لگے کہ میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کے پاس گیا اور ان کو کہا کہ اگرچہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری عمر بھی پڑھنے کی نہیں رہی لیکن اگر آپ صرف دو تین ہی سوالات کا جواب دے دیں تو آپ کا شاگرد ضرور بن جاؤں گا۔کہنے لگے کہ بہت اچھا۔جب میں نے سوال کیا تو کہنے لگے کہ اس میں تو بڑا بکھیڑا ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ سوال آپ کے وقت کا ہے آپ ہی اس کا