ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 238
پانچ چھ ملے پھر کسی کا بھی خوف نہیں آتا تھا۔فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پانچ چار بد لوگ جمع ہوجائیں تو پھر ان کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا۔پھر فرمایا کہ اس ڈاکو نے مجھے یہ بھی سنایا کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی چَھوِی کو تیز کرایااور اس کو لے کر چلا۔جب سڑک پر پہنچا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اس چَھوِی کو دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ اچھی چلتی بھی ہے یا نہیں۔جب میں سڑک پر اور آگے بڑھا تو مجھ کو ایک عورت اپنے خاوند کے ساتھ باتیں کرتی جاتی ہوئی ملی۔میں نے تو اپنی چَھوِی کو اس مرد کے سر پر مارا کہ فوراً اس کا سر بدن سے الگ جاپڑا۔یہ دیکھتے ہی عورت کی چیخ نکل گئی۔میں نے کہا کہ ہیں! روتی کیوں ہے؟ میں نے اپنی چَھوِی کی تیزی دیکھی ہے۔پھر فرمایا کہ ایک بہت امیر کبیر سکھ میرے پاس آیا۔میں نے اس کو چند نصیحتیں کیں اور کہا کہ برے آدمی کی صحبت سے بچو اور زنا نہ کرو۔وہ میرے پاس سے اٹھ کر ایک ہندو سادھو کے پاس جابیٹھا۔اس نے بھی اس کو یہی نصیحت کی کہ زنا نہیں کرنا چاہئے مگر اس کا ایک بد مصاحب اس کو اپنے ہمراہ ایک رنڈی کے یہاں لے گیا۔دونوں کو آتشک ہوگئی مگر اس سکھ کو بڑی سخت قسم کی آتشک ہوئی۔بیماری کے کئی دن بعد تک وہ ہم سے نہ ملا آخر کو بیچارہ ہمارے پاس آیا میرا لحاظ بھی وہ لوگ بہت کرتے تھے۔میرے پاس وہ آتو گئے مگر اب وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ تم کہو۔آخر کو میں نے ان کے ایک دوسرے کو اشارے کرنے سے تاڑ لیا کہ ضرور ان کو کوئی سخت بیماری لگی ہے جس کے سبب سے یہ اپنا حال کہتے ہوئے شرماتے ہیں۔میں نے کہا کہ دیکھو! تم ہمارے دوست ہو اور تمہارے سبب سے یہ لوگ بھی ہمارے دوست ہیں اور ہم طبیب ہیں۔تم ایک دوسرے کو جو ہنس ہنس کر اشارے کررہے ہو تو مجھے ہی کیوں نہیں بتلادیتے۔پھر میں نے خود ہی کہا کہ معلوم کرگیا ہوں کہ تم کو کوئی سخت بیماری مثل سوزاک یا آتشک ہوئی ہے۔اس سکھ نے تو سرنیچا کرلیا مگر دوسرے نے کہا کہ ہاں! آتشک ہوئی مگر بڑی سخت ہوئی ہے۔کئی سوروپیہ اس سکھ نے مجھ کو دیا۔میں نے پوچھا کہ یہ بیماری تم کو کب لگی ہے؟ کہنے لگا کہ اسی روز ہوئی ہے جس روز آپ نے نصیحت فرمائی کہ زنا نہ کرنا چاہئے۔پھرکہنے لگا کہ جب میں یہاں سے اٹھ کرگیا تو ایک ہندو سادھو نے بھی یہی نصیحت کی۔میں نے اس سے سوال کیا کہ تم نے پھر کیوں